میرے ساتھ زنا کیا، اسی دوران میرے ہاتھ میں چھری آگئی اور میں نے اسے قتل کردیا، پھر اس کی لاش اسی راستے پر ڈال دی جہاں آپ نے دیکھی تھی۔ میں اس زنا سے حاملہ ہوگئی اور اس بچے کو جنا تو میں نےاس بچے کوبھی اسی جگہ ڈال دیا جہاں اس کے باپ کی لاش ڈالی تھی۔ (باقی کے تمام معاملات سے آپ باخبر ہیں ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس بچے اور اس کے باپ کے متعلق جوکچھ میں نے آپ کو بتایا وہ بالکل صحیح ہے۔‘‘
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس پاک دامن، صحابی رسول کی بیٹی کو دعائیں دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’صَدَقْتِ بَارَکَ اللہُ فِیْکِ یعنی تم نے سچ کہا ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں برکتیں عطا فرمائے۔‘‘پھر آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی، ان کے لیے مزید دعا کی اور باہر تشریف لے آئے، پھر ان کے والد سے ارشاد فرمایا: ’’بَارَکَ اللہُ فِیْ اِبْنَتِکَ فَنِعْمَ الْاِبْنَۃُ اِبْنَتُکَ وَقَدْ وَعَظْتُھَا وَاَمَرْتُھَا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری بیٹی کو برکتیں عطا فرمائے، کتنی نیک وپرہیزگار بیٹی ہے، میں نے اس سے جوپوچھ گچھ و نصیحت وغیرہ کرنی تھی کردی ہے۔‘‘ ان صحابی نے بھی آپ کو دعا دیتے ہوئے عرض کی: ’’وَصَلَکَ اللہُ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! وَجَزَاکَ اللہُ خَیْراً عَنْ رَّعِیَّتِکَ یعنی اے امیر المؤمنین! اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو بے شمار بھلائیاں عطا فرمائے اور آپ کو رعایا کے معاملے میں جزائے خیر عطا فرمائے۔‘‘(1)
جیسا آپ چاہتے ویسا ہی ہوتا:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب بھی یہ کہتے ہوئے دیکھا کہ ’’میرے خیال میں یہ کام یوں ہونا چاہیے۔‘‘ تووہ کام ویسا ہی ہوتا۔چنانچہ ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں سے ایک خوبرو نوجوان گزرا ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اگر میرا گمان غلط نہیں تو یہ شخص جاہلیت میں اپنی قوم کا نجومی تھا۔اُسے بلائو۔‘‘ لوگ اُسے بلا کر لائے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب اس سے گفتگو فرمائی تو واقعی وہ اپنی قوم کا نجومی نکلا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب الثالث والثلاثون، ص۷۹۔
2…بخاری ،کتاب المناقب ،اسلام عمر بن خطاب ،ج۲، ص۵۷۸، حدیث:۳۸۶۶ ملتقطا۔