Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
137 - 831
 ایک عورت کی پرورش میں   دے دیا اور اسے تاکید فرمادی کہ : ’’اگر کوئی بھی عورت تمہارے پاس اس بچے سے متعلق آئے اسے پیار کرے یا اس کے ساتھ محبت کا اظہار کرے تو اسے کرنے دینا اور اس کی اطلاع ہم تک فوراً پہنچانا۔‘‘
کچھ عرصے بعد اس عورت کے پاس ایک لونڈی آئی اور کہنے لگی کہ : ’’کیا تم یہ بچہ کچھ دیر کے لیے مجھے دے سکتی ہو تاکہ میری مالکن اس بچے کو دیکھے، پھر میں   تمہیں   یہ بچہ واپس لوٹا دوں   گی۔‘‘ اس عورت نے کہا: ’’کیوں   نہیں   بلکہ میں   بھی تمہارے ساتھ ہی چلتی ہوں  ۔‘‘ پھر وہ لونڈی اور عورت دونوں   مالکن کے پاس پہنچ گئیں  ، مالکن نے بچے کو لے کر اسے چوما پیارکیا اور اپنے سینے سے چمٹا لیا۔ وہ مالکن دراصل ایک انصاری صحابی رسول کی بیٹی تھیں  ۔بہرحال اس عورت نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو ان کے متعلق بتادیا۔ آپ نے تلوار نکالی اور اس صحابی کے گھر پہنچ گئے، دیکھا تو وہ باہر ہی تشریف فرماتھے۔ آپ نے ان سے فرمایا: ’’ آپ کی فلاں   بیٹی نے کیا کیا؟‘‘ انہوں   نے عرض کی: ’’اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جزائے خیر عطا فرمائے، وہ تو حقوق اللہ، حقوق والدین، صوم وصلاۃ ودینی معاملات کی ادائیگی کے حوالے سے لوگوں   میں   مشہور ہے۔‘‘ فرمایا: ’’کیا آپ اس بات کو پسند کریں   گے کہ میں   اس سے کچھ پوچھ گچھ کروں   تاکہ خیر میں   اس کی رغبت مزید بڑھ جائے؟‘‘ عرض کی: ’’اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، آپ یہیں   تشریف رکھیے میں   ابھی تھوڑی دیر میں   آتا ہوں  ۔‘‘پھر ان انصاری صحابی نے (پردے وغیرہ کے اہتمام کے بعد) اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دے دی تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ان کے پاس گئے اور باقی تمام اَفراد کو باہر نکال دیا۔ پھر آپ نے تلوار نکال کر اُن سے فرمایا: ’’لَتَصْدُقِیْنِیْ وَاِلَّا قَتَلْتُکِ وَکَانَ عُمَرُ لَایَکْذِبُ یعنی تم مجھے سچ سچ بتاؤ گی کہ بچے کا کیا معاملہ ہے ؟ورنہ میں   تمہیں   قتل کردوں   گا اور یاد رکھو عمر کبھی جھوٹ نہیں   بولتا۔‘‘
انہوں   نے اپنے ساتھ پیش آنے والے معاملے کی روداد سناتے ہوئے عرض کی کہ حضور! میرے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھی، اس کا اور میرا معاملہ ایسا تھا جیسے ماں   اوربیٹی کا، وہ ایک عرصے تک میرے پاس آتی رہی، پھر ایک دن اس نے مجھ سے کہا: ’’بیٹا میں   ایک لمبے سفر پر جارہی ہوں  ، میری ایک بیٹی ہےجسے میں   اکیلا نہیں   چھوڑ سکتی اس لیے اسے تمہارے ہاں   چھوڑ کرجارہی ہوں  ۔‘‘اس کی بیٹی کا ایک بیٹا بھی تھا جوبالکل لڑکیوں   کے مشابہ تھا، میں   اسے لڑکی ہی سمجھتی رہی، مجھے کبھی اس پر شک بھی نہ ہوا کہ وہ لڑکی نہیں   بلکہ لڑکا ہے، ایک دن میں   سو رہی تھی کہ اس نے مجھ پر قابو پالیا اور