Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
136 - 831
میں   ڈال دی۔ پھر اسی طرح کھجوریں   اٹھا کر دیگر اصحاب میں   تقسیم فرمانا شروع کردیں  ۔ میرے دل میں   مزید کھجوریں   کھانے کا شوق ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: ’’یَا اَخِیْ لَوْ زَادَكَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَتَكَ لَزِدْنَاكَ یعنی اے میرے بھائی! اگر رات رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمہیں   خواب میں   دو سے زیادہ کھجوریں   دی ہوتیں   تو ہم بھی ضرور دیتے۔‘‘
مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں  : ’’فَعَجَبْتُ وَقُلْتُ قَدْ اَطْلَعَہُ اللہُ عَلٰى مَا رَاَیْتُ الْبَارِحَۃَ یعنی یہ سن کر میں   بڑا متعجب ہوا اور کہا کہ جو کچھ میں   نے خواب میں   دیکھا تھا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کی اطلاع دے دی۔‘‘سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ’’یَا عَلِیُّ! اَلْمُؤْمِنُ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللہِ یعنی اے علی! مؤمناللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور سے دیکھتا ہے۔‘‘میں   نے عرض کیا: ’’صَدَقْتَ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ھٰكَذَا رَاَیْتُ وَكَذَا رَاَیْتُ طُعْمَۃً وَلَذَّتَہُ مِنْ یَدِكَ كَمَا وَجَدْتُّ طَعْمَهُ وَلَذَّتَہُ مِنْ یَدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یعنی آپ نے سچ فرمایا اے امیر المؤمنین! میں   نے خواب میں   ایسا ہی دیکھا تھا اور جیسا ذائقہ ولذت میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ میں   دیکھی ہے ویسی ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مبارک ہاتھوں   میں   بھی تھی۔‘‘(1)
 پاک دامن قاتلہ تک رسائی:
ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو راستے میں   پڑے بے ریش مقتول کی لاش کے پاس لایا گیا ۔ آپ نے لاش کا معائنہ کرنے کے بعد مقتول کے متعلق لوگوں   سے پوچھ گچھ کی لیکن کوئی خاطر خواہ بات سامنے نہ آئی اور نہ ہی قاتل کا کوئی سراغ ملا۔بہرحال آپ نے بارگاہِ الٰہی میں   یوں   دعا کی: ’’اَللّٰھُمَّ اظْفُرْنِیْ بِقَاتِلِہٖ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اس کے قاتل کی تلاش میں   کامیابی عطا فرما۔‘‘تقریباً ایک سال بعد دوبارہ آپ کو معلوم ہوا کہ جس جگہ اس شخص کی لاش پڑی تھی وہیں   پر اب ایک زندہ بچہ موجود ہے۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: ’’ظَفَرْتُ بِدَمِ الْقَتِیْلِ اِنْ شَاءَ اللہُ یعنی اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا تو اب میں   اس شخص کے قاتل تک پہنچ جاؤں   گا۔‘‘ پھر آپ نے وہ بچہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ریاض النضرۃ، ج۱، ص۳۳۱۔