Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
135 - 831
 المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ وہی بچہ ہے۔‘‘(1)
مولاعلی کے خواب کوعملاً بیان فرمادیا:
 ایک بارمولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  نے رات کو خواب دیکھا کہ گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز فجر رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے ادا فرمائی۔ نماز کے بعد رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحراب سے ٹیک لگا کر تشریف فرما ہوگئے۔ اچانک ایک لونڈی کھجوروں   سے بھرا ہوا تھال لے کر حاضر ہوئی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے رکھ دیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں   سے ایک کھجور اٹھائی اور فرمایا: ’’یَاعَلِیُّ تَاْخُذُ ھٰذِهِ الرَّطَبَۃَ؟ یعنی اے علی! کیا یہ کھجور کھاؤ گے؟‘‘میں   نے عرض کی: ’’جی ہاں   یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے وہ کھجور میرے منہ میں   ڈال دی۔ پھر دوسری کھجور اٹھائی اور اسی طرح مجھ سے پوچھا، میں   نے اقرار کیا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ کھجور بھی میرے منہ میں   ڈال دی۔ جب میں   بیدار ہوا تو مجھ پر اب تک وہی کیفیت طاری تھی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو کھجوریں   میرے منہ میں   ڈالی تھیں   ان کا ذائقہ بھی موجود تھا۔ میں   وضو کرکے مسجد میں   گیا اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پیچھے نماز ادا کی، نماز کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرح محراب سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ ابھی میں   نے ارادہ ہی کیا تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا خواب سناؤں   کہ اچانک ایک عورت کھجوروں   سے بھرا ہوا تھال لے کر مسجد کے دروازے پر آئی اور وہ تھال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے لا کر رکھ دیاگیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس میں   سے ایک کھجور اٹھائی اور مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’تَاْكُلُ مِنْ ھٰذَا یَا عَلِیُّ؟ یعنی اے علی! کیا یہ کھجور کھاؤ گے؟‘‘ میں   نے عرض کیا: ’’جی ہاں   حضور! کیوں   نہیں   کھاؤں   گا۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وہ کھجور میرے منہ میں   ڈال دی۔پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک اور کھجور اٹھائی اور دوبارہ مجھ سے پوچھا ، میں   نے اقرار کیا تو آپ نے وہ کھجور بھی میرے منہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…نوادر الاصول، الاصل الحادی والثلاثون، ج۱، ص۱۴۲، حدیث: ۲۰۷۔
	 مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب الثانی والثلاثون، ص۶۷۔