Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
134 - 831
 سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  لوگوں   کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپ نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا: ’’وَيْحَكَ حَدِّثْنِيْ مَارَاَيْتُ غُرَاباً بِغُرَابٍ اَشْبَهَ بِهٰذَا مِنْكَ یعنی بہت خوب!کیا معاملہ ہے کہ آج تک میں   نے کوؤں   میں   بھی اتنی مشابہت نہیں   دیکھی جتنی تم باپ بیٹے میں   ہے؟‘‘ اس شخص نے (ایک حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے) عرض کی: ’’اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس بچے کو اس کی ماں   نے مرنے کے بعد جنا ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’مجھے اس کی تفصیل بتاؤ۔‘‘ 
اس نے تفصیل بتاتے ہوئے عرض کی کہ ایک دفعہ میں   جنگ کے لیے اپنے گھر سے نکلا تو اس وقت اِس کی ماں   اِس سے حاملہ تھی، اُس نے مجھے کہا : ’’ میں   حاملہ ہوں   اور تم مجھے اس حال میں   چھوڑ کر جنگ پر جارہے ہو؟ ‘‘میں   نے اس سے کہا: ’’تمہارے پیٹ میں   جو بچہ ہے وہ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بطور امانت دے کر جارہا ہوں  ۔‘‘ پھر میں   چلا گیا۔ جب میں   جنگ سے لوٹ کر واپس آیا تو دیکھا کہ گھر کا دروازہ بند ہے، میں   نے اپنی زوجہ کے بارے میں   لوگوں   سے پوچھا تو انہوں   نے بتایا کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے، میں   اس کی قبر پر گیا اورفرط غم سے روتا رہا۔ پھر رات کے وقت میں   اپنے چچا کے بیٹوں   کے ساتھ بیٹھا باتیں   کررہا تھا کہ میں   نے جنت البقیع میں   قبروں   کے درمیان آگ دیکھی۔ میں   نے ان سے پوچھا کہ یہ آگ کیسی ہے؟ تو وہ لوگ میرے پاس سے اٹھ کر چلے گئے اور کچھ نہ بتایا۔ میں   ان کے پاس گیااور دوبارہ پوچھا تو انہوں   نے میری زوجہ کی قبر کے بارے میں   بتایا کہ ہم روزانہ اس کی قبر پر آگ دیکھتے ہیں  ۔یہ سن کر میں   نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ(بے شک ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لیے ہیں   اور ہمیں   اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) پڑھا۔ کیونکہ خدا کی قسم! وہ یعنی میری زوجہ تو کثرت سے روزے رکھنے والی، نوافل ادا کرنے والی اور نہایت ہی پاک دامن مسلمان تھی۔ میں   نے (قبر کی کھدائی کے لیے )ایک پھاؤڑا لیا اور اپنے چچا کے بیٹوں   کو لے کر قبر پر آیا ۔ دیکھا تو قبر پہلے ہی کھلی ہوئی تھی، میری زوجہ اس میں   بیٹھی ہوئی تھی اور یہ بچہ اس کے گرد کھیل رہا تھا۔ اسی وقت آسمان سے ندا کرنے والے ایک منادی نے یوں   ندا کی: ’’اَيُّهَا الْمُسْتَوْدِعُ رَبَّهُ وَدِيْعَتَهُ خُذْ وَدِيْعَتَكَ اَمَّا لَوِ اسْتَوْدَعْتَ اُمَّهُ لَوَجَدْتَّهَا یعنی اے اپنے رب کے پاس امانت رکھوانے والے! اپنی امانت (بچہ)لے لے اگر تو اس کی ماں   کو بھی بطور امانت اپنے رب کے سپرد کر جاتاتو اسے بھی ضرور (زندہ)پاتا۔‘‘میں   نے اس بچے کو اٹھا لیا اور قبر خود ہی بند ہوگئی۔ اے امیر