اس شخص کو جانتے ہیں ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشاد فرمایا: ’’ایک شخص کواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری کے متعلق غیب سے اطلاع دی تھی جس کا نام (حضرت سیِّدُنا) سواد بن قارب (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )ہے، میں نے اسے دیکھا تو نہیں لیکن اگر وہ زندہ ہے تو پھر وہ یہی شخص ہے اور اُسے اپنی قوم میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُسے بلالیااور اس سے گفتگو فرمائی تو ویسا ہی ہوا جیسا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا تھا۔(1)
شراب کی بوتل سرکہ بن گئی:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ايک بار مدينہ منورہ کی ايک گلی سے گزر رہے تھے ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیکھا کہ سامنے سے ایک نوجوان آرہا ہےاوراس نے کپڑوں کے نیچے ايک بوتل بھی چھپا رکھی تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی فراست سے پہچان لیا کہ یہ شراب ہی کی بوتل ہوگی ، چنانچہ جیسے ہی وہ قریب پہنچا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے پوچھا :’’اے نوجوان!يہ کپڑوں کے نیچے کيا اٹھا رکھا ہے ؟‘‘یقیناً اس بوتل ميں شراب تھی نوجوان نے اسے شراب کہنے ميں شرمندگی محسوس کی۔اس نے فوراً دل ہی دل ميں دعا کی :’’يا اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے شرمندہ اور رسوا نہ فرما، ان کے ہاں ميری پردہ پوشی فرما ،میں تیری بارگاہ میں سچی توبہ کرتاہوں کہ آئندہ کبھی شراب نہيں پيوں گا ۔‘‘اس کے بعد نوجوان نے عرض کيا : ’’امير المؤمنين ! یہ تو سرکے کی بوتل ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمايا:’’مجھے دکھاؤ۔‘‘جب اس نے وہ بوتل آپ کے سامنے کی اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے ديکھا تو وہ واقعی سرکے کی بوتل تھی ۔ (2)
بیٹے کے حقیقی رشتے کو پہچان لیا:
حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مستدرک حاکم ،کتاب معرفۃ الصحابہ ،ذکر سواد بن قارب الازدی،ج۴، ص۷۹۸، حدیث:۶۶۱۷۔
معجم کبیر ،سواد بن قارب ،ج۷، ص۹۲، حدیث:۶۴۷۵۔
2…مکاشفۃ القلوب ،الباب الثامن فی التو بۃ ، ص ۲۷ ۔۲۸۔