Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
132 - 831
نے ارشاد فرمایا: ’’مؤمن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور سے دیکھتاہے ۔‘‘(1)
 امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس نور سے بدرجہ اتم معمو ر تھے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کے بے شمار ایسے پہلو ہیں   جو آپ کی فراست سے معمور ہیں  ،خصوصاً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقات آپ کی اعلی فراست کی روشن دلیل ہیں  ۔(2)بہرحال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی نوری فراست سے مختلف لوگوں   کے مختلف اقوال وافعال دونوں   کو جان لیا کرتے تھے۔ چنانچہ،
فاروقِ اعظم سچ اور جھوٹ کی پہچان کرلیتے:
٭…حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے کوئی بات بیان کرتا اور اس میں   جھوٹ ملا تا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کو روک دیتے ، وہ پھر بیان کرتا تو پھر روک دیتے۔ جب وہ بیان کرلیتا تو کہتا کہ ’’میں   نے جو کچھ بیان کیا وہ حق ہے مگر جتنے حصے کے بارے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ اس کو روک دوں   وہ حق نہیں   تھا۔‘‘(3)
٭…حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ : ’’اِنْ كَانَ اَحَدٌ یَعْرِفُ الْكِذْبَ اِذَا حَدَّثَ بِہٖ اِنَّہُ كِذْبٌ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی اگر کسی شخص کو گفتگو میں   جھوٹ کی پہچان ہوجایا کرتی تھی تو وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ تھی۔‘‘(4)
فاروقِ اعظم اور اجنبی شخص کی پہچان :
ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسجد میں   تشریف فرما تھے ساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اصحاب بھی تھے کہ ایک شخص کا وہاں   سے گزر ہوا۔ لوگوں   نے عرض کیا:’’ حضور! کیا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی،کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجر،ج۵، ص۸۸، حدیث:۳۱۳۸۔
2…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقات کے لیے اسی کتاب کا موضوع ’’موافقات فاروقِ اعظم‘‘ص۔۔۔کا مطالعہ کیجئے۔
3…تاریخ ابن عساکر،ج۴۴،ص۲۸۲۔
4…تاریخ ابن عساکر،۴۴،ص۲۸۱۔