Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
131 - 831
 ملکیت ہی میں   رکھو اور اس کے منافع راہ خدا میں   صدقہ کردو۔‘‘چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس زمین کو ایسے صدقہ کیا کہ نہ تو اس کو بیچا جائے گا، نہ ہی ہبہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس میں   وراثت جاری ہوگی بلکہ اس کی آمدنی کو فقراء، غریب رشتہ داروں  ، مسافروں  ، مہمانوں  اور راہ خدا میں   خرچ کیا جائےگا، اور اس کے متولی کو اجازت ہے کہ اس میں   سے اپنی ذات یا دوستوں   پر جائز طریقے سے خرچ کرے۔(1)
اپنی باندی کو راہِ خدا میں   آزاد کردیا:
حضرت سیِّدُنا مجاہد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کو کسری کے شہر مدائن کی فتح کے دن پیغام بھیجا کہ جلولاء کے قیدیوں   سے ایک باندی خرید کر میرے لیے روانہ کردو۔انہوں   نے ایک لونڈی کو آپ کی خدمت میں   بھیج دیا۔ جب وہ لونڈی آپ کی خدمت میں   حاضر ہوئی تو اس نے آپ کو تعجب میں   ڈال دیا۔ (یعنی وہ بہت خوبصورت تھی) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: (لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ ) (پ۴، آل عمران:۹۲) ترجمۂ کنزالایمان: ’’تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں   اپنی پیاری چیز نہ خرچ نہ کرو ۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس باندی کواُسی وقت راہِ خدا میں   آزاد کردیا۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کی با کمال فراست
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی مایہ ناز مشہورِ زمانہ تصنیف ’’فیضانِ سنت‘‘ جلددوم کے باب’’نیکی کی دعوت‘‘ حصہ اول صفحہ ۳۷۰ پر فراست کی تعریف کچھ یوں   بیان فرمائی ہے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اولیاء کے دلوں   میں   وہ چیز ڈالتاہے جس سے انہیں   بعض لوگوں   کے حالات کا علم ہوجاتاہے۔‘‘واقعی مؤمن کے لیےیہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عطاکردہ نور ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الوصایا، الوقف کیف یکتب، ج۲، ص۲۴۴، حدیث:۲۷۷۲۔
2…تفسیر قرطبی، پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ:۹۲، ج۲،الجزء:۴،  ص۱۰۱۔
	 کنز العمال، کتاب الزکوۃ، فصل فی آداب الصدقۃ، الجزء:۶، ج۳، ص۲۵۱، حدیث:۱۷۰۱۸۔