ایک ہزار دینار بطور انعام عطا فرمادیے:
حضرت سیِّدُناعامر بن حرم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ :’’اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَجَازَ رَجُلًا بِاَلْفِ دِیْنَارٍ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو ایک ہزار دینار بطور اِنعام عطا فرمادیے۔‘‘(1)
حجام کی دل جوئی کے لیے چالیس درہم :
حضرت سیِّدُنا عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شخصیت میں بہت ہی ہیبت تھی، ایک بار حجام آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بال بنا رہا تھا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گلا صاف کرنے کے لیے کھنکارا تو اس بےچارے حجام کا خوف کے مارے وضو ٹوٹ گیا۔ بعد ازاں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس حجام کی دلجوئی کے لیے چالیس درہم دینے کاحکم فرمایا۔(2)
فاروقِ اعظم اور اِنفاق فی سبیل اللہ
محبوب شے کو راہ خدا میں خرچ کردیا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایسے سخی تھے کہ راہِ خدا میں اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں بھی خرچ کردیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : ’’میرے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حصے میں خیبر کی کچھ زمین آئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا :’’اَصَبْتُ اَرْضًا لَمْ اُصِبْ مَالًا قَطُّ اَنْفَسَ مِنْہُ فَكَیْفَ تَاْمُرُنِیْ بِہٖ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !یہ خیبر کی زمین میرے حصے میں آئی ہے اور اس سے نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا، آپ ارشاد فرمائیں کہ میں اس زمین کا کیا کروں ؟‘‘رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ اَصْلًا وَتَصَدَّقْتَ بِھَایعنی اے عمر! اگر تم چاہو تو اسے اپنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب البیوع والاقضیۃ،من رخص فی جوائز الامراء ۔۔۔ الخ، ج۵، ص۴۳، حدیث: ۱۹۔
2…طبقات کبری،ذکر استخلاف عمر،ج۳،ص۲۱۷۔