Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
129 - 831
ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وحضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نصیحتوں   سے بھرپور مکتوب لکھا ۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِس مکتوب کو پڑھ کر جواباً ارشاد فرمایا: ’’ كَتَبْتُمَا تَعَوَّذَانِیْ بِاللّٰہِ اَنْ اَنْزِلَ كِتَابَكُمَا سِوَى الْمَنْزِلِ الَّذِیْ نَزَلَ مِنْ قُلُوْبِكُمَاوَاَنَّكُمَا كَتَبْتُمَا بِہٖ نَصِیْحَۃً لِیْ وَقَدْ صَدَقْتُمَا فَلَا تَدْعَا الْكِتَابَ اِلَیَّ فَاِنَّہُ لَا غِنَی  بِیْ عَنْكُمَا وَالسَّلَامُ عَلَیْكُمَا یعنی آپ دونوں   نے مجھے نصیحتوں   سے بھرپور مکتوب لکھا کہ آپ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں   اس بات سے کہ میں   یہ خط پڑھ کر وہ مفہوم لوں   جو آپ کے دلوں   میں   نہیں   ہے جبکہ آپ نے تو خیر خواہی کے لیے لکھا ہے۔ آپ دونوں   نے سچ کہا ہے، مجھےآئندہ بھی آپ کے خط کا انتظار رہے گا، میں   آپ حضرات (کی خیر خواہی )سے بے نیاز نہیں   ہوں  ۔‘‘(1) 
فاروقِ اعظم کی سخاوت
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بے شمار اوصاف کے حامل ہونے کےساتھ ساتھ نہایت ہی سخی بھی تھے، آپ کی سخاوت کے خود آپ کے دوستوں   کے مابین بھی چرچے ہوتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے شہزادے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعض اوصاف کے متعلق گفتگو کی تو میں   نے ان کے سامنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اوصاف  بیان کیے تو انہوں   نے ارشاد فرمایا: ’’مَا رَاَیْتُ اَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ حِینَ قُبِضَ كَانَ اَجَدَّ وَاَجْوَدَ حَتّٰی اِنْتَھٰی  مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعد میں   نے کسی بھی شخص کو زیادہ کوشش کرنے والا اور سخاوت کرنے والا نہیں   دیکھا حتی کہ یہ اوصاف سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر ختم ہوگئے۔‘‘ (2) 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الزھد،کلام عمر بن الخطاب، ج۸، ص۱۴۸، حدیث: ۱۰ملتقطا۔
2…بخاری، کتاب المناقب، مناقب عمر بن الخطاب،ج۲، ص۵۲۷، حدیث:۳۶۸۷۔