کمی نہ آئی ، اگر کسی سے کبھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے منصب کے خلاف کوئی کوتاہی ہوبھی گئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کبھی اس سے انتقام نہ لیا اور اور نہ ہی اس پر کسی قسم کی کوئی سرزنش کی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حلم وبردباری کا ایک عظیم الشان واقعہ ملاحظہ کیجئے۔
جنگی قاصد آپ کو نہ پہچان سکا:
حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک عراق میں کفار کے خلاف برسر پیکار تھے۔انہوں نے جنگی حالات کے متعلق امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خط لکھ کر بذریعہ قاصد روانہ کیا۔ اِدھر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لشکر اسلام کی بہت فکر دامن گیر تھی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روزانہ صبح قادسیہ کی طرف جانے والے راستے پر اکیلے نکل جاتے اور دوپہر تک قاصد کا انتظار کرتے رہتے، اس راستے سے آنے والے ہر شخص سے جنگ کی تازہ ترین صورتِ حال جاننے کی کوشش کرتے۔ ایک روز حسب معمول آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسی راستے پر نکلے ہوئے تھے کہ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قاصد آپہنچا۔آپ نے اس سے پوچھا: ’’کہاں سے آئے ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میں قاصد ہوں ۔‘‘ارشاد فرمایا: ’’حَدِّثْنِیْ یعنی جنگ کی کیا خبر ہے؟ مجھے بتاؤ۔‘‘ اس نے کہا:’’ھَزَمَ اللہُ الْعَدُوَّ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دشمنوں کو شکست دے دی ہے اور اہل اسلام کو فتح عطا فرمائی ہے۔‘‘یہ کہہ کر قاصد اپنی اونٹنی سمیت آگے بڑھ گیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ ساتھ پیدل دوڑنے لگے اور ساتھ ہی ساتھ اس سے فتح کے متعلق دیگر سوالات کرتے رہے یہاں تک کہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو امیر المومنین کہہ کر سلام کرنے لگے۔یہ دیکھ کر وہ قاصد نہایت ہی شرمندہ ہوا اور عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگا:’’ یاامیر المومنین! آپ نے مجھے بتایاہی نہیں ۔‘‘فرمایا: ’’تم پر کوئی اعتراض نہیں ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی طرف اصلاحی مکتوب:
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حلم کا یہ عالم تھا کہ امیر المؤمنین ہونے کے باوجود اگر کوئی ما تحت آپ کو نصیحت آمیز بات کہتا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ برامنانے کے بجائے اس کی بات کو خوشی سے قبول فرماتے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فتوح الشام، ذکر فتوح الخورنق۔۔۔الخ، ج۲، ص۱۷۹، مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب، الباب السابع والاربعون، ص۱۴۱۔