Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
127 - 831
فاروقِ اعظم کی تکبر کی نحوست سے پاکیزگی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عاجزی وانکساری کو پڑھ کر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں   ہوجاتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جہاں   عاجزی وانکساری کے پیکر تھے وہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تکبر جیسی نحوست سے پاک وصاف تھے۔کیونکہ تکبر یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں   سے بڑا سمجھے اور دوسروں   کو اپنے آپ سے حقیر جانے۔ تکبر کا انجام ذلت و خواری ہے جو تکبر کرے گا یقیناً ذلیل ہوگا۔
تکبر عزازیل را خوار کرد
بزندان لعنت گرفتار کرد
یعنی ’’تکبر نے عزازیل (شیطان)کو ذلیل وخوار کردیا اور اس کو لعنت کے جیل خانہ میں   گرفتار کردیا۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفۂ رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد سب سے افضل وبہتر ہونے کی بارگاہِ رسالت سے سند عطا ہوئی لیکن آپ نے کبھی تفاخرانہ انداز اختیار نہ کیا اور نہ ہی کسی مسلمان کو حقیر جانا۔ بلکہ بسا اوقات آپ دیگر مسلمانوں   کو اپنے سے بہتر ارشاد فرماتے۔ چنانچہ،حضرت سیِّدُنا ابو رافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے قریب سے گزرے تو میں   قرآن پاک کی خوبصورت لہجے میں   تلاوت کررہا تھا، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سن کر ارشاد فرمایا: ’’یَا اَبَا رَافِعْ! لَاَنْتَ خَیْرٌ مِّنْ عُمَرَ تُؤَدِّیْ حَقَّ اللہِ وَحَقَّ مَوَالِیْكَ یعنی اے ابو رافع! یقیناً تم عمر سے بہتر ہو کہ تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حقوق اور اپنے آقا کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہو۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کا حلم وبردباری
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب کسی کو کوئی عہد ہ مل جائے تو عموماً ایسا ہوتا ہے کہ اس کے حلم یعنی قوت برداشت میں   بہت زیادہ کمی آجاتی ہے، خصوصا جب اس کے مقام ومرتبہ کے خلاف کوئی بات ہوجائے، لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عالم اسلام کے وہ عظیم الشان آئیڈیل حکمران تھے جن کے حلم اور بردباری میں   کبھی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان للبیھقی، باب فی حق السادۃ علی الممالید، ج۶، ص۳۸۶، حدیث:۸۶۱۳۔