Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
126 - 831
 میرے عیب بتائے۔‘‘(1)
اپنے نفس سے عاجزی کا اقرار :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  : ’’فَمِنْ سَعَادَۃِ الْمَرْءِ اَنْ یُقِرَّ عَلٰی نَفْسِہٖ بِالْعِجْزِ وَالتَّقْصِیْرِ فِی جَمِیْعِ اَفْعَالِہٖ وَاَقْوَالِہٖ یعنی آدمی کی خوش بختی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے نفس سے عا جزی اور اپنے تمام افعال واقوال میں   کوتاہی کا اقرار کرائے۔‘‘(2)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بھی یہ عادت مبارکہ تھی کہ نہایت ہی عاجزی اونکساری کرنے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے نفس سے بھی عاجزی کا اقرار کرواتے۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہیں   باہر نکلے تو میں   بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑا، کیا دیکھتا ہوں   کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک باغ میں   داخل ہوئے ۔میرے اور ان کے درمیان ایک دیوار تھی، میں   نے سنا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے آپ کو مخاطب کرکے بطور عاجزی ارشاد فرمارہے تھے: ’’اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِینَ! وَاللہِ لَتَتَّقِیْنَ اللہَ اَوْ لَيُعَذِّبَنَّكَ یعنی اے مسلمانوں   کے خلیفہ! قسم بخدا تم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہو ورنہ   وہ تمہیں   ضرور عذاب دے گا۔‘‘(3)
نفس کو ذلیل کرنے کا عزم:
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر بن حفص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ایک بار امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی پشت پر مشکیزہ اٹھالیا۔ آپ سے عرض کی گئی کہ حضور آپ مت اٹھائیں  ، ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ نَفْسِیْ اَعْجَبَتْنِیْ فَاَرَدْتُّ اَنْ اُذِلَّهَا یعنی میرے نفس نے مجھے عجب پسندی میں   مبتلا کردیا تو میں   نے اسے ذلیل کرنے کی ٹھان لی ۔‘‘(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج۳، ص۲۲۲۔
2…بحرالدموع ، ص۲۰۰۔
3…موطا امام مالک، باب ما جاء فی التقی، کتاب الکلام، ج۲، ص۴۶۹، حدیث:۱۹۱۸۔
4…تاریخ الاسلام ،  ج۳،ص۲۷۰۔