یعنی اے امیرالمؤمنین! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ کام کررہے ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ یہاں کے باشندے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نظر اٹھا کر دیکھیں ۔‘‘تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عاجزی وانکساری سے بھرپور جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’اَوَّہْ لَمْ یَقُلْ ذَا غَيْرِكَ اَبَا عُبَیْدَۃَ جَعَلْتُہُ نَكَالًا لِّاُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اِنَّا كُنَّا اَذَلُّ قَوْمٍ فَاَعَزَّنَا اللہُ بِالْاِسْلَامِ فَمَھْمَا نَطْلُبُ الْعِزَّ بِغَيْرِ مَا اَعَزَّنَا اللہُ بِہٖ اَذَلَّنَا اللہُ یعنی افسوس اے ابوعبیدہ! اگریہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا تو میں اسے اس اُمت کے لئے نشان عبرت بنا دیتا۔کیا تمہیں یاد نہیں ہم ایک بے سرو سامان قوم تھے، پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت بخشی، جب بھی ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ عزت کے علاوہ عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں رسوا کردے گا۔‘‘(1)
عید گاہ کی طرف ننگے پاؤں تشریف لے جانا:
حضرت سیِّدُنا زر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : ’’رَاَیْتُ عُمَرَ ابْنَ الْخَطَّابِ یَمْشِیْ حَافِیاً یعنی میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (نماز عید کے لیے) ننگے پاؤں ہی تشریف لیے جارہے ہیں ۔‘‘(2)
عاجزی کے متعلق فرمان فاروقِ اعظم:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَ اللہُ حَكَمَتَہُ یعنی بندہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی قدر ومنزلت کو بڑھا دیتا ہے۔‘‘ (3)
میرے عیب بتانے والامیرا محبوب :
حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ مَنْ رَفَعَ اِلَیَّ عُیُوْبِیْ یعنی مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو مجھے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مستدرک حاکم ، کتاب الایمان، قصۃ خروج عمر الی الشام، ج۱، ص۲۳۶، حدیث:۲۱۴۔
2…مستدرک حاکم ،کتاب معرفۃ الصحابۃ،ومن مناقب امیر ۔۔۔الخ،ج۴،ص۳۲،حدیث:۴۵۳۵۔
3…احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، بیان فضیلۃ التواضع، ج۳، ص۴۱۹۔