Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
124 - 831
یَعِزُّکُمُ اللہُ یعنی تواضع سے بندے کی رفعت میں   اضافہ ہوتاہے، لہٰذا تواضع اختیار کرو، اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں   بلندی عطا فرمائے گا اور درگزرسے کام لیناعزت میں   اضافہ کرتاہے لہٰذا عفو ودرگزرسے کام لیا کرو،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں   عزت عطا فرمائے گا۔‘‘ (1)
فاروقِ اعظم زمین پر آرام فرماتے :
حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں  :’’لَمَّا نَفَرَ عُمَرُ كَوَّمَ كَوْمَۃً مِنْ تُرَابٍ  ثُمَّ بَسَطَ عَلَیْھَا ثَوْبَہُ وَاسْتَلْقَى عَلَیْھَایعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب شہر سے باہر کہیں   سفر وغیرہ پر جاتے تو راستے میں   استراحت کے لیے مٹی کا ڈھیر لگا کر اس پر کپڑا بچھاتے اور پھر آرام فرماتے۔‘‘(2)
فاروقِ اعظم کا سفر حج عام مسلمانوں   کی طرح:
حضرت سیِّدُنا عامر بن ربیعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   فرماتے ہیں   کہ’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حج کے لیے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے تو پورے سفر حج میں   جہاں   کہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے پڑائو کیا، نہ وہاں   خیمہ لگایا نہ قنات، صرف یہ کہ کسی درخت پر چادر یا چٹائی ڈال لیتے اور اس کے سائے میں   بیٹھ جاتے۔‘‘(3)
فاروقِ اعظم کی عاجزی وانکساری کی انتہا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ملک شام تشریف لے گئے ، حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بھی آپ کے ساتھ تھے۔دونوں   ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں   گھٹنوں   تک پانی تھا، آپ اپنی اونٹنی پرسوارتھے ، اونٹنی سے اترے اور اپنے موزے اتار کر اپنے کندھے پررکھ لئے، پھر اونٹنی کی لگام تھام کرپانی میں   داخل ہو گئے تو حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی :’’مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ اَھْلَ الْبَلَدِ اِسْتَشْرَفُوْكَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جمع الجوامع،حرف التاء،ج۴،ص۱۲۵،حدیث:۱۰۶۹۷ملتقطا۔
2…مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، کلام عمر بن الخطاب، ج۸، ص۱۱۵۰، حدیث:۲۱۔
3… تاریخ ابن عساکر ،ج۴۴،ص۳۰۵۔