Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
122 - 831
توفیق عطا فرمائے۔‘‘ پھر میں   نے تیسری صفت بیان کرتے ہوئے کہا:’’ انہیں   شہید کیا گیا۔‘‘تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نہایت ہی عاجزی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’میرے لیے شہادت کہاں  ؟ یہ تو تمہارے سامنے ہے کہ جنگوں   میں   تم لوگ جاتے ہو، میں   نہیں  ۔‘‘پھر فرمایا: ’’ہاں   کیوں   نہیں  ؟ اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے، اور جب وہ چاہے گا ایسا ہوجائے گا۔‘‘(1)
عذاب الٰہی سے بچانے والی تین خصلتیں  :
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں  کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کوابو لولو نےجب زخمی کردیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے بلا کر ارشاد فرمایا:’’میری ان تین باتوں   سے حفاظت کیجئے،:’’میری ان تین باتوں   سے حفاظت کیجئے،اگر کو ئی شخص یہ تین باتیں   میری جانب منسو ب کرے تو آپ سمجھ لیں   کہ وہ جھوٹا ہے۔‘‘پھریہ تین باتیں   ارشاد فرمائی:(۱) ’’میں   نے کوئی مملوک (غلام)چھوڑا ہے۔‘‘(۲)’’میں   نے کَلَالَہ(2)کے بارے میں   کسی چیز کا کو ئی فیصلہ کیاہے۔‘‘(۳)’’میں   اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کر چکا ہوں  ۔‘‘جو بھی ان تینوں   باتوں   میں   سے کوئی بھی بات کہے تو سمجھ لینا کہ بلاشبہ وہ جھوٹا ہے۔
یہ فرمانے کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  زار وقطار رونے لگے ۔‘‘حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ جب میں   نے اس گریہ و زاری کا سبب دریافت کیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے ارشاد فرمایا:’’مجھے آخرت میں   پیش آنے والا معاملہ رُلارہا ہے۔‘‘میں   نے عرض کی: ’’اے امیرالمومنین!آپ میں   تین خصلتیں   ایسی ہیں   جن کی وجہ سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو کبھی عذاب نہیں   دے گا۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے فرمایا:’’وہ کون سی خصلتیں   ہیں  ؟‘‘ میں   نے عرض کی:’’(۱) آپ بات کرتے ہیں   تو سچ بو لتے ہیں  ۔(۲)فیصلہ کرتے ہوئے عد ل کرتے ہیں   ۔(۳) رحم کی اپیل کی جاتی ہے تو رحم کرتے ہیں  ۔‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاستیعاب، عمر بن الخطاب، ج۳، ص۲۴۲۔
2…’’کَلَالَہ‘‘ اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں   جو اپنے بعد نہ تو ماں   باپ چھوڑے اور نہ ہی اولاد۔ (پ۴، النساء:۱۲)
3…موسوعۃ آثار الصحابۃ،مسند آثار الفاروق ، ج۱، ص۱۲۷، الرقم:۵۸۲۔