یعنی مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان عمر سے بہتر کوئی شخص نہیں ۔‘‘(1)
فاروقِ اعظم کی تین خصلتیں :
حضرت سیِّدُنا عوف بن مالک اشجعی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خواب دیکھا کہ ایک جگہ بہت سے لوگ جمع ہیں جن میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے بلند ہیں ۔عام لوگوں سے تقریباًتین ہاتھ تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سر اونچا تھا۔‘‘میں نے کہا:’’ یہ کون ہیں ؟‘‘لوگوں نے بتایا:’’ یہ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں ۔‘‘ میں نے کہا: ’’یہ اتنے اونچے کیوں ہیں ؟‘‘لوگ کہنے لگے:’’ان میں تین خصلتیں ہیں : (۱) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں کسی شخص کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔ (۲)انہیں خلیفہ بنایا گیا۔ (۳)اور شہید کیا گیا ہے۔‘‘
مزید فرماتے ہیں کہ میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا اور انہیں اپنا خواب سنایا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلا بھیجا۔‘‘ ان کے آنے کے بعد حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے دوبارہ خواب سنانے کا ارشاد فرمایا تو میں نے پھر خواب سنانا شروع کیا اور جب میں نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تین خصلتیں بیان کرتے ہوئے کہا: ’’انہیں خلیفہ بنایا گیا۔ تو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے میری طرف دیکھا اور مجھے جھڑکا کہ یہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہزندہ ہیں اوریہی خلیفہ ہیں اور تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
بعد میں حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال ظاہری کے بعد حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب خلیفہ بنے اور منبر پر بیٹھے تو مجھے بلایا اور وہی خواب سنانے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں نے خواب سنانا شروع کیا اور جب میں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تین خصلتیں بیان کرتے ہوئے یہ کہا: ’’یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’مجھے امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے انہی لوگوں میں شامل فرمادے گا۔‘‘ میں نے دوسری صفت بیان کرتے ہوئے کہا: ’’ انہیں خلیفہ بنایا گیا ۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے یہ منصب عطا فرمایاہے اورآپ اللہ
عَزَّ وَجَلَّسے دعا کریں کہ وہ مجھے اسے صحیح طور پر سنبھالنے کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فضائل الصحابۃ للامام احمد، ومن فضائل عمر بن الخطاب، ص۴۳۰، الرقم: ۶۸۰۔