شیخ الاسلام علامہ انواراللہ فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۱۲۶۴ھ میں پیدا ہوئے، جامعہ نظامیہ (حیدرآباد دکن)کے بانی ہیں ، علوم وفنون میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے شرف تلمذ حاصل کیا، آج بھی آپ کا فیض پاک وہند میں جاری ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دائرہ معارف قائم کیا، اعلی حضرت عظیم البرکت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کے لیے زبردست القابات استعمال فرمائے ہیں ۔والدہ کی طرف سے آپ کا نسب شیخ احمد کبیر رفاعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ملتا ہے۔ (1)
مولانا حکیم غلام قادر بیگ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ :
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یکم محرم الحرام ۱۲۴۳ ہجری کو لکھنؤ ہندمیں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد نے لکھنؤ سے سکونت ترک کرے بریلی شریف میں سکونت اختیار کرلی، آپ نسلا ایرانی یا ترکستانی مغل نہیں ہیں بلکہ شاہانِ مغلیہ نے آپ کے اجداد کو مرزا اور بیگ کے خطابات سے نوازا تھا، آپ کا سلسلۂ نسب خواجہ عبید اللہ احرار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ملتا ہے اور ان کے وسیلے سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملتا ہے۔ اپنے وقت کے مشہور عالم دین، عابد وزاہد اور متقی شخص تھے، انتہائی منکسر المزاج اور خوش اخلاق تھے، انہی اوصاف کی بنا پر اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد ماجد رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سے آپ کے بہت قریبی روابط تھے، اگرچہ آپ کا شمار اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے اساتذہ میں ہوتا ہے لیکن فتاویٰ رضویہ میں آپ ہی کے پوچھے گئے سوالات کی تعداد کم وبیش انیس ۱۹ہے۔(2)
مولانا اِرشاد حسین رامپوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تیرہویں صدی ہجری کے بزرگ ترین عالم اور محدث کامل تھے، آپ کا سلسلۂ نسب نو ۹واسطوں سے سیِّدُنا مجدد الف ثانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تک جا تا ہے اور ان کے وسیلے سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتک پہنچتا ہے۔آپ کی ولادت ۱۴صفر المظفر ۱۲۴۸ہجری کو ہوئی اور ۱۵ جمادی الآخر ۱۳۱۱ہجری کو تقریباً ۶۳
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عقیدۂختم نبوت، ج۵، ص۱۸۔
2…مولانا نقی علی خان، حیات اور علمی وادبی کارنامے، ص۸۸۔