Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
116 - 831
الْمُؤَکِّلِیْنَ بِاَمْثَالِ ھٰذِہِ الْمَشَاھِدِ وَبِاَمْثَالِ ھٰذِہِ الْمَجَالِسِ بہرحال جو بھی معاملہ ہوا جب میں   نے ان انوار وتجلیات میں   غور کیا تو پتہ چلا کہ یہ انوار ان ملائکہ کی طرف سے ظاہر ہورہے ہیں   جو اس طرح کی نورانی اور بابرکت محافل میں   شریک ہوتے ہیں   ۔‘‘
٭…’’وَرَاَیْتُ یُخَالِطُ اَنْوَارُ الْمَلَائِکَۃِ اَنْوَارَ الرَّحْمَۃِاور میں   نے یہ بھی دیکھا کہ ان ملائکہ سے ظاہر ہونے والے انوار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کے اَنوار سے مل رہے ہیں  ۔‘‘(1)
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت شاہ ولی اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے فرزنداکبر ہیں  ۔آپ کی بے شمار تصانیف میں   سے ’’تفسیر فتح العزیز ‘‘المعروف ’’تفسیر عزیزی‘‘، ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘، ’’بستان المحدثین‘‘، ’’فتاویٰ عزیزیہ‘‘ اور ’’سرالشہادتین ‘‘سرفہرست ہیں  ۔
شاہ مخصو ص اللہ محدث دہلوی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت شاہ ولی اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے پوتے ہیں  ۔جید عالم اور صوفی بزرگ تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اُمت مسلمہ میں   افتراق ڈالنے والی فرقہ ورانہ کتاب ’’تقویۃ الایمان‘‘کا پہلا رد ’’مُعِیْدُ الْاِیْمَان‘‘ کے نام سے لکھا، بعد ازاں   ہردور میں   علماء نے اس کتاب کے رد لکھے جن میں   اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے کئی رسائل فتاوی رضویہ میں   موجود ہیں   نیزاس سلسلے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے خلیفہ صدرالافاضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کی کتاب ’’اطیب البیان فی ردتقویۃ الایمان‘‘ بھی ایک لا جواب کتاب ہے۔
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :
آپ ہندوستان کے مشہور عالم دین ہیں  ۔ ۱۲۳۳ھ ہجری میں   سہارنپور کے نواحی علاقے میں   پیدا ہوئے،نہایت ہی قلیل الطعام یعنی کم کھانے والے تھے، تقوی وپرہیزگاری میں   اپنی مثال آپ تھے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد سے ہیں  ۔۱۳۱۷ھ ہجری میں   مکہ مکرمہ میں   انتقال فرمایا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیوض الحرمین، ص۲۶۔