سلسلۂ نسب ۲۹واسطوں سے امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے جا ملتاہے ۔(1)
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میلاد النبی کے شیدائی تھے۔جس مقدس مکان میں خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت ہوئی،تاریخ اسلام میں اس مقام کا نام ’’مولد النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ (رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش کی جگہ) ہے ،یہ بہت ہی متبرک مقام ہے۔ سلاطین اسلام نے اس مبارک یادگار پر بہت ہی شاندار عمارت بنا دی تھی،جہاں اہل حرمین شریفین اور تمام دنیا سے آنے والے مسلمان دن رات محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور صلوٰۃ و سلام پڑھتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی کتاب ’’فیوض الحرمین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں :
٭…’’کُنْتُ قَبْلَ ذٰلِکَ بِمَکَّۃَ الْمُعَظَّمَۃِ فِیْ مَوْلِدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ یَوْمِ وِلَادَتِہٖ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یعنی اس سے قبل میں مکہ معظمہ میں میلاد شریف کے دن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جائے ولادت پر حاضر تھا، سب لوگ حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود وسلام پڑھ رہے تھے۔‘‘
٭…’’یَذْکُرُوْنَ اِرْھَاصَاتِہِ الَّتِیْ ظَھَرَتْ فِیْ وِلَادَتِہٖ وَمَشَاھِدَہُ قَبْلَ بِعْثَتِہٖ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت کے وقت جو ارہاصات(2)ظاہر ہوئے تھے اور بعثت سے قبل جو واقعات رونما ہوئے تھے ان کا ذکر خیر کررہے تھے۔‘‘
٭…’’فَرَاَیْتُ اَنْوَاراً سَطَعَتْ دَفْعَۃً وَاحِدَۃًلَا اَقُوْلُ اِنِّیْ اَدْرَکْتُھَا بِبَصَرِ الْجَسَدِ وَلَا اَقُوْلُ اَدْرَکْتُھَا بِبَصَرِ الرُّوْحِ فَقَطْ اَللہُ اَعْلَمُ میں نے ان انوار کو دیکھا جو یکبارگی اس محفل میں ظاہر ہوئے اور میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ انوار میں نے اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھے یا روح کی آنکھوں سے دیکھے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّہی بہتر جانتا ہے۔ ‘‘
٭…’’کَیْفَ کَانَ الْاَمْرُ بَیْنَ ھٰذَا وَذَاکَ فَتَاَمَّلْتُ تِلْکَ الْاَنْوَارَ فَوَجَدْتُّھَا مِنْ قِبَلِ الْمَلَائِکَۃِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اردو دائرہ معارف اسلامیہ،ج۱،ص۳۱،المسویٰ شرح الموطا،ج۱،ص ۵۔
2…حاشیہ: ’’نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہر ہو، اُس کو اِرہاص کہتے ہیں ۔‘‘بہارشریعت، ج۱، حصہ۱، ص۵۸۔