فاروقِ اعظم سیِّدُنا امام جعفرصادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پردادا:
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پردادا ہیں کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا امام باقر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے ہیں اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہان کے دادا ہیں لہٰذاآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پردادا ہوئے۔(1)
فیضانِ فاروقِ اعظم پاک وہند میں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاولاد کا سلسلہ تقریباً پوری دنیا میں پھیلتا چلا گیا یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فیضان سے ہند بھی فیضیاب ہوا ۔ ہند میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد میں سے ایسے جلیل القدر ائمہ پیدا ہوئے جنہوں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فیضان کی دھوم مچادی۔ چند ائمہ کرام کا تعارف پیش خدمت ہے:
بابا فرید الدین گنج شکر فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار پاک وہند کے مشہور ومعروف اولیائے کرام میں ہوتا ہے، سلسلۂ چشتیہ کے مشایخ میں سے ہیں ، ۵۷۵ہجری میں ملتان کے ایک قصبے کہوتی وال میں پیدا ہوئے، حضرت سیِّدُنا خواجہ بختیار کاکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مرید اور سیِّدُنا خواجہ نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پیرومرشد ہیں ۔ آپ کے اساتذہ میں آپ کے دادا پیر حضرت سیِّدُنا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری المعروف خواجہ غریب نواز، شیخ شہاب الدین سہروردی، خواجہ فریدالدین عطار، حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمکے اسماء سرفہرست ہیں ۔اسی یا نوے سال کی عمر میں وصال ہوا اور پاکستان کے شہر پاک پتن شریف میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ (2)
مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی :
امام ربانی حضرت شيخ احمد بن عبدالاحد فاروقى نقشبندى سرهندى المعروف مجد الف ثانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا اصل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تھذیب الاسماء ، جعفر بن محمد،ج۱، ص۱۵۵۔
2…اُردو دائرہ معارف اسلامیہ ، ج۱۵، ص۳۴۰ ملخصا۔