Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
109 - 831
 المؤمنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ بنت ابو امیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ قریبہ بنت ابو امیہ دونوں   سگی بہنیں   تھیں  ۔یوں   سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور حضر ت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہم زلف ہوئے۔
(1)…سیدتنا اُمّ سلمہ بنت ابو امیہ۔زوجۂ رسول اللہ
(2)…سیدتنا قریبہ بنت ابو اُمیہ۔زوجہ فاروقِ اعظم ۔(1)
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ کے بھتیجے:
اُمّ المومنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ بنت ابو اُمیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   اور حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ ’’حنتمہ بنت ہاشم  ‘‘چچا زاد بہنیں   تھیں  ۔اس طر ح حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُمّ المومنین حضرت سیِّدُنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے دور کے بھتیجے ہوئے ۔چونکہ حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زوجہ ہیں   لہٰذاحضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہرسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بھی بھتیجے ہوئے۔
(1)…سیدتنا اُمّ سلمہ بنت ابو امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔زوجہ رسول اللہ
(2)… حنتمہ بنت ہاشم بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔والدئہ فاروقِ اعظم۔(2)
فاروقِ اعظم کی اہل بیت سے رشتہ داری
فاروقِ اعظم مولاعلی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے داماد:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنی لاڈلی شہزادی ’’حضرت سیدتنا اُمّ کلثو م‘‘   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاح امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا اس طرح سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے داماد ہوئے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الکامل فی التاریخ،ثم دخلت سنۃ ثلاث وعشرین،ذکر اسماء ولدہ ونسائہ، ج۲، ص۴۵۰۔
2…مدارج النبوۃ، ج۲،ص۴۷۵، الاستیعاب، کتاب کنی النساء، ج۴، ص۴۹۳۔
3…اسد الغابہ، ام کلثوم بنت علی۔۔۔الخ، ج۷، ص۴۲۴۔