وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: ’’اِنَّ اللہَ اِخْتَارَنِیْ وَاخْتَارَلِیْ اَصْحَابِی وَاَصْھَارِیْ وَسَیَاْتِیْ قَوْمٌ یَسُبُّوْنَھُمْ وَ یَنْتَقِصُوْنَھُمْ فَلَاتُجَالِسُوْھُمْ وَلَاتُشَارِبُوْھُمْ وَلَاتُوَاکِلُوْھُمْ وَلَاتُنَاکِحُوْھُمْ یعنی بےشک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے پسندفرمایا اور میرے لئے صحابہ اور سسرالی رشتہ دار پسند کئے اور عنقریب ایک قوم آئے گی جوانہیں براکہے گی اور ان کی شان گھٹائے گی، تم اُن کے پاس مت بیٹھنا، نہ ان کے ساتھ پانی پینا، نہ کھاناکھانا، نہ شادی بیاہ کرنا۔‘‘(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث مبارکہ میں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان خصوصاً اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سسرالی رشتہ دار شیخین کریمین یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی شان میں گستاخی کرنے، ان کی شان کو گھٹانے والوں سے قطع تعلق (Boycott)کا صراحۃً حکم دیا گیا ہے۔جب حضور نبی ٔپاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رشتہ داروں کے گستاخ کا یہ حکم ہے تو خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی گستاخی کرنے والوں کا کیا حکم ہوگا۔اعلی حضرت، عظیم البرکت، مجدددین وملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ، ج۲۴، ص ۳۱۴پراسی حدیث مبارکہ کو نقل کرنے کے بعد اِرشاد فرماتے ہیں : ’’جب اہل بیت اور صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے برا کہنے والوں کے لیے یہ حکم ہیں تو اہل کفر اور عَیَاذاً بِاللہِ خدا ورسول (عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی جناب میں صریح گستاخیاں کرنے والوں کی نسبت کس قدر سخت حکم چاہیے۔‘‘
اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
وہ عمر جس کے اَعداء پہ شیدا سقر
اُس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
شرح :’’امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دشمنوں کا جہنم عاشق ہے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبارگاہِ خداوندی کے مقرب اور رب عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ دوستی رکھنے والے ہیں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر لاکھوں سلام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ضعفاءکبیر ،احمدبن عمران الاخنسی، ج۱، ص۱۴۴، الرقم:۱۵۴۔