Brailvi Books

فیضانِ فاروقِ اعظم(جلداوّل)
106 - 831
 صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ظاہری گیارہ سن ہجری میں   ہوا۔ یوں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کم وبیش سات سال آٹھ ماہ رفاقت نصیب ہوئی۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹی چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ ہیں   لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نورکے پیکر، تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے سسرالی رشتہ دار ہوئے اور سسرالی رشتے کا دوزخ میں   داخل نہ ہونا، قیامت میں   اس کا باقی رہنا نیز اس سسرالی رشتے کے مخالفین کی مخالفت(Boycott)کا خود سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ،
سسرالی رشتہ دار کبھی دوزخ میں   داخل نہ ہوگا:
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’سَاَلْتُ رَبِّیْ اَنْ لَّا یَدْخُلَ النَّارَ مَنْ صَاھَرْتُہُ اَوْ صَاھَرَنِیْ یعنی میں   نے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّسے سوال کیا کہ وہ اس شخص کو دوزخ میں   نہ ڈالے جس سے میں   نے سسرالی رشتہ جوڑا یا جس نے مجھ سے یہ رشتہ قائم کیا۔‘‘(2)
سسرالی رشتہ قیامت میں   بھی باقی رہے گا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ میں   نے شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو فرماتے سنا: ’’ہر نسبی اور سسرالی رشتہ روزِ قیامت ختم ہو جائے گا، مگر میرے یہ دونوں   رشتے باقی رہیں   گے۔‘‘(3)
سسرالی رشتے کے مخالفین کی مخالفت کا حکم:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المنتظم ، ج۳، ص۱۶۰، تھذیب التھذیب، کتاب النساء، حرف الحاء، ج۱۰، ص۴۶۴، الرقم:۸۸۶۱۔
2…سیرۃ حلبیہ،  باب ذکر مغازیہ، غزوۃ تبوک، ج۳، ص۱۸۴، الاستیعاب،عثمان بن عفان، ج۳، ص۱۵۶۔
3…مستدرک حاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، نکاح عمر بام کلثوم۔۔۔الخ، ج۴، ص۱۱۹، حدیث:۴۷۳۸۔