آئے تو اَوّلاً انسان اپنے قریبی رشتہ داروں ہی کی طرف رجوع کرتااور استعانت (مدد)چاہتاہے۔ رشتہ داروں سے حسن اخلاق کی متعدد احادیث مبارکہ بھی وارد ہوئی ہیں ۔ بعض اوقات یہی رشتہ دار کسی شخص کی عزت وذلت کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ جن رشتہ داروں کا کردار معاشرے میں اچھا نہیں ہوتا عموماً لوگ اپنی طرف ان کی نسبت کرنا پسند نہیں کرتے اور جن رشتہ داروں کاکردار معاشرے میں بہت اچھا ہوتاہے،انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو لوگ بھی اپنی طرف ان کی نسبت کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کفارومشرکین ومنافقین اورایسے تمام فاسق لوگ جو دینی ودنیوی معاشرےکی بدنامی کا باعث بنتے ہیں نہ تو انہیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتاہے اور نہ ہی ان کی تعظیم وتوقیر کا کوئی اہتمام کیا جاتاہے، جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ، اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام ودیگر ایسے لوگ جو دینی ودنیوی معاشرے کی نیک نامی کا باعث بنے، جنہوں نے معاشرے کو عزت بخشی بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی آج ان کی سیرتِ طیبہ کو سنہری حروف سے نہ صرف لکھا جاتا ہے بلکہ نہایت ہی ذوق وشوق سے پڑھا بھی جاتاہے، نیز ان کے مزارات مرجع خلائق ہیں ۔
دنیا کی تمام رشتہ داریوں میں سب سے عظیم رشتہ داری دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی رشتہ داری ہے۔جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رشتہ داری نصیب ہوجائے اس کی سعادت مندی کے کیا کہنے! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بعد وہ سعادت مند ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رشتہ داری نصیب ہوئی۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ، تابعین ودیگر مشاہیر اعلام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے رشتہ داری ملاحظہ کیجئے:
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی کا رسول اللہ سے عقد مبارک:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی لاڈلی بیٹی حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا نکاح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے شعبان المعظم تین ہجری (ایک قول کے مطابق دو ہجری)میں فرمایا یوں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اُمّ المؤمنین یعنی تمام مسلمانوں کی ماں بن گئیں ۔ حضور نبی ٔپاک،