خصوصاً جبکہ وہ غلام یا خادم مسلمان ہوتا تو اس کا آقا اس پر ظلم وستم کی انتہا کردیتا۔صحابی رسول حضرت سیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مشہور واقعہ اس رویے کی عکاسی کرتاہے۔لیکن جیسے ہی دنیا میں اسلام کی روشنی پھیلی، عوام وخواص، آقا و غلام کے امتیاز کے بغیر تمام لوگوں کے حقوق یکساں ہو گئے۔ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد آپ کے جانثار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اپنے غلاموں کے ساتھ حسنِ اخلاق کی اعلی مثالیں قائم کیں ۔خصوصا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتو ایسے حاکم تھے جن کے اپنے غلاموں کے ساتھ بہترین رویے اور حسن اخلاق کی پوری تاریخ میں مثال نہیں ملتی، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تقوی وپرہیزگاری دیکھ کر آپ کے غلام بھی اپنی غلامی پر رشک کرتے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے کئی خدام وغلاموں کا کتب میں تذکرہ ملتاہے البتہ بعض خدام ایسے ہیں جو سفر وحضر میں ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے کچھ نہ کچھ حالات سیرت وتاریخ کی کتابوں میں مل جاتے ہیں لیکن بعض غلام وہ ہیں جن کے نام بطور راوی کے احادیث وروایات میں ملتے ہیں تفصیلی تذکرہ کتب میں مذکور نہیں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تقریباً ۳۲غلام تھے، مختصر تعارف پیش خدمت ہے:
(1)…حضرت سیِّدُنا اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ :
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کنیت ابو خالد ہے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ’’ابو زید ‘‘بھی کہاجاتا ہے۔عین التمر کی جنگ میں حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھوں قیدی بن کر آئے اور گیارہ ہجری میں سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی غلامی میں آگئے۔سفر وحضر میں آپ کے ساتھ رہے، آپ کی پسند ونا پسند کا انہیں بہت تجربہ تھا۔ مختلف امور زندگی میں سیرتِ فاروقی کے مظہر تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تابعی ہیں اور کثیر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے احادیث بھی روایت کی ہیں جن میں چاروں خلفاء راشدین کے علاوہ سیِّدُنا ابو عبید ہ بن جراح سیِّدُنامعاذ بن جبل، سیِّدُناابو ہریرہ، سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم قابل ذکر ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات صحاح ستہ میں بھی موجود ہیں ۔آپ کا وصال ۱۱۴سال کی عمر میں سن ۸۰ ہجری میں ہوا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تاریخ ابن عساکر، ج۸، ص۳۳۶، تھذیب الاسماء، حرف الالف، ج۱، ص۱۶۱۔
الوافی بالوفیات، ج۳، ص۱۸۹، الکامل فی التاریخ، ثم دخلت سنۃ خمسین، ج۴، ص۱۹۴۔