ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سگی بہن اور جنت کی خوشخبری پانے والے جنتی صحابی حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ ہیں ۔اُمّ المومنین حضرت سیدتنا خدیجہ الکبر ی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور آپ کی بیٹیوں کے بعد آپ پہلی خاتون ہیں جو مشرف بہ اسلام ہوئیں ۔اس طر ح خواتین میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا دوسرے نمبر پر اسلام لائیں ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ وہی بہن ہیں جو ان کے قبول اسلام کا سبب بنیں ۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ایمان لانے سے قبل آپ اور آپ کے شوہر اپنے گھر میں چھپ کر قرآنی مصاحف کی تلاوت کیا کرتے تھے، جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس بات کی خبر ہوئی تو وہ آپ کے گھر آئے اور دونوں کو مار مار کر لہولہان کردیا بالآخر پاک وصاف ہو کر جب ان ہی قرآنی صحائف کی تلاوت کی تو دل کی دنیا زیروزبر ہوگئی اور بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول فرمالیا۔(1)
دوسری بہن، سیدتنا صفیہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی دوسری بہن حضرت سیدتنا صفیہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہیں ۔آپ حضرت سیِّدُنا قدامہ بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے نکاح میں تھیں ۔ حضرت سیِّدُنا قدامہ بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہی ہیں جن کی بہن حضرت سیدتنا زینب بنت مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجیت میں تھیں ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیِّدُنا قدامہ بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بحرین کا عامل مقرر فرمایا تھا۔ (2)
فاروقِ اعظم کے غلاموں کا تعارف
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ دورِ جاہلیت میں لوگ اپنے غلاموں اور خادموں کے ساتھ بہت ناروا سلوک رکھتے تھے، انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دینا ان کا محبوب ترین مشغلہ تھا،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابۃ ،فاطمۃ بنت الخطاب، ج۸، ص۲۷۱،الرقم:۱۱۵۹۴ ، طبقات کبری، فاطمۃ بنت الخطاب ۔۔۔ الخ، ج۸، ص۲۰۹ ، فتح الباری، کتاب الاکراہ، باب من اختار۔۔۔الخ، ج۱۳، ص۲۷۱، تحت الحدیث: ۶۹۴۲۔
2…الاستیعاب،باب قدامۃ،ج۳، ص۳۴۰ ،الاصابۃ ،قدامۃ بن مظعون، ج۵، ص۳۲۳، الرقم: ۷۱۰۳۔