Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
460 - 479
حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما بیان فرماتے ہیں : کَانَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ثَلَاثُ قَلَانِسَ: قَلَنْسُوَۃٌ بَیْضَاءُ مُضَرَّبَۃٌ وَقَلَنْسُوَۃٌ بُرْدُحَبِرَۃ وَقَلَنْسُوَۃٌ ذَاتَ آذَانٍ یَلْبَسُھَا فِی السَّفَر وَرُبَّمَا وَضَعَھَا بَیْنَ یَدَیْہِ اِذَا صَلّٰی یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کے پاس تین قسم کی ٹوپیاں تھیں۔ سفید کڑھائی والی ٹوپی ، سبز دھاری دار ٹوپی اور کانوں والی ٹوپی جسے سفر میں زیبِ سر فرماتے، بسا اوقات آپ اس ٹوپی کو اپنے سامنے رکھ کر نماز ادا فرماتے تھے۔ (اخلاق النبی و آدابہ ، ذکر قلنسوتہ صَلَّی اللہ علیہ وسلَّم، ص۷۰، حدیث:۳۰۵)
	امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نے نقل فرمایا کہ قَلَنْسُوَۃٌ بَیْضَائُ مُضَرَّبَۃٌ کی بجائے قَلَنْسُوَۃٌ بَیْضَائُ مِصْرِیَّۃٌ یعنی سفید مصری ٹوپی تھی۔   (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ الخ، الباب الثالث فی قلنسوتہ صَلَّی اللہ علیہ وسلَّم، ۷/۲۸۴) 
	حضرت سیّدنا  جریر بن عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت سیّدنا  عبد اللہ بن بُسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ سے ملا تو میں نے کہا کہ مجھے کوئی حدیث سنائیں تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ نے فرمایا : رَاَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم وَلَہ قَلَنْسُوَۃٌطَوِیْلَۃٌ وَقَلَنْسُوَۃٌ لَہَا اُذُنَانِ وَقَلَنْسُوَۃٌ لَاطِیَّۃٌ یعنی میں