اور صحابہ کرام و تابعینِ عظام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلیھِم اَجمَعِیْن کا عمامہ باندھنے کا معمول تھا اور ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہ وَ سَلَّم نے ٹوپیوں پر ہی عمامے باندھنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا رُکانہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم فرماتے ہیں :’’ میری اُمت ہمیشہ فطرت پر رہے گی جب تک وہ ٹوپیوں پر عمامے باندھے گی۔ ‘‘(کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات ، فرع فی العمائم، الجز: ۱۵، ۸/۱۳۳، حدیث:۴۱۱۴۰) اس لئے مناسب ہے کہ ان حضراتِ قُدسیہ کی مبارک ٹوپیوں کا ذکرِ خیر بھی کیا جائے تاکہ ہم اس معاملے میں بھی ان کی اِتِّباع کر کے ثوابِ آخرت کے حقدار بن سکیں۔
نبیٔ کریم کی مبارک ٹوپیاں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نبی ٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا ٹوپی مبارک پہننا ثابت ہے جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: وَلَا بَأْسَ بِلُبْسِ الْقَلَانِسِ وَقَد صَحَّ اَ نَّہُ صَلَّی اللہُ عَلَیہ وَاٰلِہ وَسَلَّم کَانَ یَلْبَسُہَا یعنی ٹوپیاں پہننے میں کوئی حرج نہیں اور بے شک صحیح (روایت ) ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ٹوپی مبارک پہنی ہے ۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع فی اللبس ما یکرہ من ذلک الخ ، ۵/۳۳۰) بلکہ سرکار صَلَّی اللہُ