تاکید ہو مقتدیوں کے لئے کم ۔ہر قسم کی ٹوپی جائز ہے مگر جو ٹوپی کفار و فساق کی علامت ہو اس کو نہ پہننا چاہئے۔ (فتاویٰ امجدیہ ،۱/۱۹۸)
عمامہ پر گوٹا لگوانے کا حکم
مفتیٔ اعظم ہند علامہ ابو البرکات مصطفیٰ رضا خانعَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سوال ’’جس پگڑی میں گوٹا(1) لگا ہو اس کو باندھ کر نماز پڑھنا درست ہے ؟ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرتے ہیں۔
الجواب: جائز ہے جب کہ گوٹا چار انگل سے کم ہو اور سچا ہو جھوٹے سے نماز مکروہ ہو گی ۔
ایک اور سوال’’مرد رنگین پگڑی باندھ کر نماز پڑھتے ہیں یا کُرتاپہنتے ہیں ان کو لازم ہے کہ پاک کرکے نماز پڑھیں ؟
الجواب:نہیں مگر جب کہ ناپاک رنگ میں رنگے ہوں۔وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَم (فتاویٰ مصطفویہ ، ص ۱۷۱ )
ٹوپی کی شرعی حیثیت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ نبیٔ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہ وَ سَلَّم
1…سونے چاندی اور ریشم کے تاروں سے بنا ہوا فیتا یا زری کی تیار کی ہوئی گوٹ یا کناری جو عموماً عورتوں کے لباس پر زینت اور خوش نمائی کے لیے ٹانکی جاتی ہے اس کا عرض آدھ انچ سے لے کر بالشت بھر بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ ہے۔