Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
456 - 479
ہے تو وہی افضل ہے۔ (ازالۃ الملامۃ عن الامامۃ بغیر العمامۃ ، ص ۱۰) 
عمامے کے متعلق علمائے اہلسنّت کے فتاوی
	مفتی محمدامجد علی اعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے عمامہ شریف کے متعلق پوچھے گئے دو سوالات بمع جوابات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ 
{1}سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام صاحب نماز کے وقت عمامہ نہیں باندھتے عذر فرماتے ہیں کہ میرا سر گھومتا ہے اور مقتدیوں میں ایک صاحب(عمامہ ) باندھتے ہیں۔ایسی حالت میں نماز صحیح ہے یا مکروہ ۔
الجواب: اگر مقتدی کے سر پر عمامہ ہے امام کے(سر پر ) نہیں تو اسکی وجہ سے نماز میں کوئی کراہت نہیں اور مقتدی کو نماز باعمامہ کا ثواب ملے گا۔(فتاویٰ امجدیہ ،۱/۱۹۴)
{2}سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ پیش امام کو ٹوپی پہن کر امامت کرنا حرام ہے یا مکروہِ تحریمی یا مکروہِ تنزیہی اور امام کے لئے کسی مخصوص ٹوپی کی ضرورت ہے یا ہر ٹوپی کا ایک حکم ہے؟۔ 
الجواب :صرف ٹوپی پہن کر امامت کرنا نہ حرام ہے نہ مکروہِ تحریمی نہ مکروہِ تنزیہی البتہ ٹوپی پر عمامہ باندھنا زیادہ ثواب ہے اور جو نماز عمامہ کے ساتھ پڑھی جائے وہ اس نماز سے افضل ہے جو بغیر عمامہ پڑھی گئی اور اس حکم میں امام و مقتدی دونوں کا ایک حکم ہے ،امام کے لئے عمامہ کی خصوصیت نہیں ، نہ یہ کہ امام کے لئے زیادہ