ایسے ہی ایک اور سوال (کہ امام کے سر پر دستار نہ ہو اور مقتدی کے سر پر دستار ہو تو کسی کی نماز میں کچھ خلل آتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر کچھ خلل آتا ہے تو امام کے یا مقتدی کے؟ اور اگر خلل ہے تو کس قسم کا خلل ہے؟) کے جواب میں جو ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ یوں ہے کہ: کسی کی نماز میں کچھ خَلَل نہیں ، عمامہ مستحباتِ نماز سے ہے اور ترکِ مستحب سے خَلَل درکنار کراہت بھی نہیں آتی اس لئے کہ عمامہ باندھنا سُنَنِ زَوائِد (سنّت غیرِ مؤکدہ )میں سے ہے اور سُنَنِ زَوائِد کا حکم مستحب والا ہوتا ہے۔ دُرِّمُخْتار میں ہے: نماز کے آداب ہیں جن کا ترک اِسائَ ت و عِتاب لازم نہیں کرتا مثلاً سُنَنِ زوائد کا ترک، لیکن ان کا بجا لانا افضل ہے۔
(درمختار، آخر باب صفۃ الصلٰوۃ، ۱/۷۳، فتاویٰ رضویہ ، ۷/۳۹۴)
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی محمد عمرالدین قادری ہزاروی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کا خاص اسی مسئلے پر نہایت مُدَلَّل فتویٰ بنام ’’اِزَالَۃُ المَلَامَۃِ عَنِ الاِمَامَۃِ بِغَیرِ العِمَامَۃ‘‘ بھی ہے جس پر دیگر علماء و مَشاہِیر کی تَصدِیقات کے ساتھ ساتھ سیّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن کی تصدیق بھی موجود ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : ’’فِی الوَاقع بے عمامہ کے صرف ٹوپی سے امامت مُوجبِ کراہت نہیں اگرچہ عمامہ اَحسن و افضل ہے، ہاں بالکل بَرہَنَہ سر نماز مکروہ ہے وہ بھی جبکہ براہِ کَسَل (سستی)ہو اور اگر بہ نیتِ تَذَلُّلْ (عاجزی)