صاحب صرف ٹوپی پہنے ہوئے ہوں تو مقتدی کی نماز میں کوئی کراہت نہیں چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نے اسی سوال (کہ اگر مقتدی عمامہ باندھے ہوں اور امام فقط ٹوپی پہنے تو نماز مکروہ ہوگی یا نہیں ؟) کے جواب میں ارشاد فرمایا: اس میں شک نہیں کہ نماز عمامہ کے ساتھ نماز بے عمامہ سے افضل، کہ وہ (عمامہ) اَسبابِ تَجَمُّل (یعنی خوبصورتی کا سبب) ہے ہی اور یہاں (نماز میں ) تَجَمُّل محبوب اور مقامِ ادب کے مناسب، اس لئے تلاوت ِقرآن کے وقت تَعَمُّم (یعنی عمامہ باندھنا) مَندُوب ہوا (جیساکہ فتاویٰ قاضی خان میں ہے) اور نماز میں کہ گویا دربارِ عظیمُ الشان حضرت مَلَکُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرض جَلَّ جَلَا لُہ کی حاضری ہے، رِعایتِ آداب بہ نسبت تلاوت کے اہم، اور امام کہ سردار و مُطاعِ قوم ہے اُس کے ساتھ اَحَق واَلیَق (زیادہ لائق ہے )، لہٰذا نظافتِ ثوب (کپڑوں کا صاف ستھرا ہونا)و پاکیزگیٔ لباس وجوہ تقدیمِ اِستحقاقِ امامت سے قرار پائی (جیسا کہ دُرمختار میں ہے) مگر بایں ہمہ صورتِ مُستفَسَرہ میں صرف ترکِ اولیٰ ہوا تو اُس سے کراہت لازم نہیں آتی تاوقتیکہ اس کا ثبوت کسی خاص دلیلِ شرعی سے نہ ہو ورنہ نمازِ چاشت و اِشراق وغیرہما ہر مستحب کا ترک مکروہ ٹھہرے اور یہ صحیح نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۶/۶۳۱)
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نے