Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
453 - 479
ملفوظات میں ہے :
 	عرض :عمامہ کے دونوں سِرے کامْدَار(یعنی سونے یا چاندی کے کام والے) ہوں تو کیا حکم ہے ؟
	ارشاد:اس میں راجح یہ ہے کہ اگر چار انگل سے زائد ہے تو ممنوع ہے۔ (درمختار و ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی اللبس، ۹/۵۸۱ ، ملفوظات اعلیٰ حضرت ،ص ۳۲۵ )
عرض :ٹوپی یا کپڑے وغیرہ میں سَچَّا (یعنی خالص سونے یاچاندی کا )کام ہو تو کیا حکم ہے؟ 
	ارشاد :اگر چار اُنگل تک ہے تو حرج نہیں اور اگر چند بوٹِیاں (یعنی پھول ،پتی وغیرہ) اور ہر ایک چار انگل سے زیادہ نہیں اور دُور سے دیکھنے میں فَصْل (یعنی الگ الگ) معلوم ہوتا ہو جب بھی کوئی حرج نہیں اگرچہ جمع کرنے سے چار انگل سے زیادہ ہو جائیں ہاں اگر بوٹی چار انگل سے زیاد ہ ہے یا مُغَرَّق (یعنی سونے چاندی سے لِپا ہوا) ہے کہ دور سے فَصْل (یعنی الگ الگ) نہ معلوم ہوتا ہو تو ناجائز۔ (ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/۵۸۲ ملخصاً ، ملفوظات اعلیٰ حضرت ،ص ۳۲۶) 
باعمامہ مقتدی اور بے عمامہ امام
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر مقتدی نے عمامہ باندھ رکھا ہو اور امام