الثوب، ۴/۱۵۷، حدیث:۳۵۹۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر کشیدہ کاری چار انگل سے کم ہے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ
حضرت سیّدنا ابو عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ چار انگل تک حریر و ریشم کی اجازت دیا کرتے تھے۔
(ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب الرخصۃ فی العلم فی الثوب، ۴/۱۵۶، حدیث:۳۵۹۳)
’’بہارِ شریعت ‘‘میں ہے: مردوں کے کپڑوں میں ریشم کی گوٹ چار اُنگل تک کی جائز ہے اس سے زیادہ ناجائز، یعنی اس کی چوڑائی چار اُنگل تک ہو، لمبائی کا شمار نہیں۔ اسی طرح اگر کپڑے کا کنارہ ریشم سے بُنا ہو جیسا کہ بعض عمامے یا چادروں یا تہبند کے کنارے اس طرح کے ہوتے ہیں ، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر چار اُنگل تک کا کنارہ ہو تو جائز ہے، ورنہ ناجائز۔ (درمختار و ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/۵۸۰) یعنی جبکہ اس کنارہ کی بناوٹ بھی ریشم کی ہو اور اگر سوت کی بناوٹ ہو تو چار انگل سے زیادہ بھی جائز ہے۔ عمامہ یا چادر کے پلّو ریشم سے بُنے ہوں تو چونکہ بانا ریشم کا ہونا ناجائز ہے، لہٰذا یہ پلّو بھی چار انگل تک کا ہی ہونا چاہیے زیادہ نہ ہو۔ (بہار شریعت، ۳/۴۱۱)
عمامے پر زری کا کام کروانا کیسا؟
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے