صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اس کے نقش و نگار کاٹ ڈالے پھر پہنا۔ (طبقات ابن سعد ،ذکر لباس رسول اللہ، ۱/۳۵۳) نیز
حضرت سیّدنا مجاہد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :حضرت سیّدنا عبد اللہ ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُمَا نے ایک عمامہ خریدا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیکھا کہ اس میں نقش و نگار بنے ہوئے ہیں تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان نقش و نگار کو کاٹ دیا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب اللباس، باب من کرہ العلم ولم یرخص فیہ، ۱۲/۴۶۳، حدیث:۲۵۱۹۰)
حضرت سیّدنا ابوعمر مولیٰ اسماء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو ایک عمامہ خریدتے دیکھا جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قینچی منگوائی اورانہیں کاٹ دیا ، حضرت سیّدنا ابوعمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : پھر میں حضرت سیّدتنا اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے پاس حاضر ہوا اور انہیں تمام واقعہ سنایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کہا: افسوس عبد اللہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے یہ کیا کیا ، پھراپنی خادمہ سے فرمایا: رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا جُبَّہ لے آؤ تووہ ایک جُبَّہ لے آئی جس کی دونوں آستینوں ، گریبان اور سامنے کے دونوں کناروں پر ریشم سے کشیدہ کاری کی گئی تھی۔ (ابن ماجہ، کتاب اللباس، باب الرخصۃ فی العلم فی