ہے، اگرچہ بھولے سے، اگرچہ سوتے میں ، اگرچہ بیہوشی میں ، اگرچہ عذر سے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ۱۰/۷۱۳) اس لیے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے انہیں ان چیزوں کے اتار دینے کاحکم ارشاد فرمایاتھا۔
تلاوتِ قرآن کے وقت عمامہ شریف سجائیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح نماز کے لئے زینت اختیار کرنا محمود و مستحسن ہے اسی طرح تلاوتِ قرآن کے وقت اچھا لباس پہننا اور عمامہ شریف باندھنا بھی مستحب ہے چنانچہ
فَقِیہُ النَّفْس حضرت علّامہ قاضی حسن بن منصور اَوزْجَندِی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی ’’فتاویٰ قاضی خان‘‘ میں فرماتے ہیں :جو شخص تلاوتِ قرآن کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ اچھی ہیئت اختیار کرے یعنی اچھے کپڑے پہنے ، عمامہ شریف باندھے اور قبلہ رو بیٹھے کیونکہ قرآنِ پاک اور فقہ کی تعظیم کرنا لازم و ضروری ہے۔
(فتاوی قاضی خان، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی التسبیح و التسلیم الخ، ۴/۳۷۹)
عمامہ شریف کے مسائل
مسئلہ :عمامہ کو سر سے اتار کر زمین پر رکھ دینا، یا زمین سے اٹھا کر سر پر رکھ لینا مُفسِدِ نماز نہیں ، البتہ مکروہ ہے۔ (فتاوی ھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ، الفصل الثانی، ۱/۱۰۸،بہارِ شریعت، ۱/۶۳۴)