انتہائھا، ۲/۲۵۵)
صَدرُ الشریعہ، بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : عمامہ کو گرد سے بچانے کے لیے پہنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کیا تو حرج نہیں اور چہرے کو خاک سے بچانے کے لیے کیا، تو مکروہ ہے۔ (بہار ِشریعت ، ۱/۵۲۹)
نماز میں عمامہ گر جائے تو؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دورانِ نماز اگر عمامہ شریف گر جائے یا اس کا کچھ حصہ کُھل جائے تو نمازی کو چاہئے کہ اسے عملِ قلیل کے ذریعے اٹھا لے اور کچھ حصہ کھل جانے کی صورت میں عملِ قلیل سے ہی درست بھی کر لے۔ ہاں اگربار بار کُھل جاتا ہو یا گرجاتاہو تو نہ اُٹھائے چنانچہ
شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنی مایہ ناز کتاب ’’نماز کے احکام ‘‘صفحہ 259 پر نقل فرماتے ہیں : نماز میں ٹوپی یا عمامہ شریف گر پڑا تو اُٹھا لینا افضل ہے جبکہ عملِ کثیر کی حاجت نہ پڑے ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی اور باربار اُٹھانا پڑے تو چھوڑ دیں اور نہ اُٹھانے سے خشوع و خضوع مقصود ہو تو نہ اٹھانا افضل ہے۔ (در مختار و ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ، ۲/۴۹۱)
مزید فرماتے ہیں :اگر کوئی ننگے سر نماز پڑھ رہا ہو یا اُس کی ٹوپی گر پڑی ہو تو اُس کو