Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
445 - 479
مطلب الکلام علی اتخاذ المسبحۃ، ۲/۵۱۱)  اس سے اس طرح لپٹ جانا مراد ہے کہ ہاتھ نکالے نہ جاسکیں ، بہارِشریعت میں لکھا ہے :’’ علاوہ نماز کے بھی بے ضرورت اس طرح کپڑے میں لپٹنا نہ چاہیے اور خطرہ کی جگہ سخت ممنوع ہے۔‘‘
(بہارِشریعت ، ۱/۶۲۶)
نماز میں مُنہ اور ناک چھپانا
(۱) نماز میں عمامہ شریف پر چادر اِس طرح اوڑھنا کہ منہ اور ناک چھپ جائے مکروہ تحریمی ہے، جیسا کہ حضرت علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’نماز میں ناک اور منہ کو ڈھانپنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ مجوسیوں (یعنی آتش پرستوں ) کا طریقہ ہے کہ وہ آگ کی پوجا کرتے وقت اس طرح کرتے ہیں۔‘‘
 (درمختار و ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، باب مایفسد الصلوۃ و ما یکرہ فیہا، مطلب الکلام علی اتخاذ المسبحۃ، ۲/۵۱۱) 
 نماز میں عمامے کو گرد سے بچائیں تو؟
	خَاتَمُ المَحَقِّقِین حضرت علامہ محمد امین ابن عابدین شامی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں : اگر چہرے کو مٹی سے بچانے کے لیے کپڑے پر سجدہ کیا تو مکروہ ہے اور اگر عمامہ شریف کو بچانے کے لیے کیا تو مکروہ نہیں۔ (درمختار و ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل فی بیان تالیف الصلاۃ الی