Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
442 - 479
 دئیے ) ان میں سے ایک بگولہ پہلے سے چھوٹا ہو چکا تھا، چنانچہ میں آگے بڑھااور ان کی لڑائی والی جگہ پر پہنچا۔ وہاں کچھ ایسے مردہ سانپ پڑے تھے جنہیں میں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ان میں سے کسی سے مشک کی خوشبو پھوٹ رہی تھی ۔ میں نے انہیں الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کر دیا کہ ان میں کس سے خوشبوپھوٹ رہی ہے، تو میں نے دیکھا وہ خوشبو ایک زرد رنگ والے باریک سانپ سے آرہی تھی۔ مجھے یقین ہو گیا ہو نہ ہو اس میں ضرور کوئی بھلائی ہے کہ اس سے ہی خوشبو آ رہی ہے ۔ چنانچہ میں نے اسے اپنے عمامے میں لپیٹ کر دفن کر دیا۔ پھر میں روانہ ہو گیا تو اچانک کسی نے مجھے آواز دی’’ اے بندہ ٔ خد ا! تو نے کیا کیا ہے؟ ‘‘ حالانکہ وہاں مجھے کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ میں نے (اس نظر نہ آنے والے منادی کو) سارا ماجرا سنا دیا۔ اس نے کہا : تم نے بہت اچھا کیا۔ یہ بگولے جنوں کے دو قبیلے بنی شعیبان اور بنی اقیس تھے جنکی باہم لڑائی ہوئی جسے تم نے دیکھا۔ جس سانپ کو تم نے دفن کیا ہے یہ شہید ہے کیونکہ یہ ان جنوں میں سے تھا جنہوں نے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے وحی سننے کا شرف حاصل کیا تھا۔ حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا اگر تم سچے ہو تو تم نے بڑا عجیب منظر دیکھا ہے اور اگر تم جھوٹے ہو تو کذب بیانی کا گناہ تم پر ہے۔ (دلائل النبوۃ ، الجز الثانی ، الفصل السابع عشر، باب ما روی فی جمعہم الصدقات الخ، ۱/۲۱۴، حدیث:۲۵۶)