Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
441 - 479
 کیونکہ اَعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر ایک کے لئے اسی کا بدلہ ہے جو اس نے نیت کی، اگرچہ یہ ایسی بدعت ہے جس پر ہمارے اَسلاف کا عمل نہ تھا۔ ‘‘ لیکن یہ بات ویسے ہی جائز ہے جیسے فقہائے کرام رَحِمہُمُ اللہُ السَّلام ’’کتاب الحج‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’حج کرنے والاطوافِ وَدَاع کے بعداُلٹے پاؤں چلتا ہوا مسجد حرام سے نکلے کیونکہ یہ بیت اللہ شریف زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی تعظیم وتکریم ہے۔‘‘ اور ’’منہج السالک‘‘ میں ہے: ’’طوافِ وَدَاع کے بعد لوگوں کا اُلٹے پاؤں واپس لوٹنا نہ تو سنّت ہے اور نہ ہی اس بارے میں کو ئی واضح حدیث ہے ۔ اس کے باوجود بزرگانِ دین ایسا کیا کرتے تھے ۔‘‘(کشف النور عن اصحاب القبور، ص۱۴، الفتاوٰی تنقیح الحامدیۃ ، وضع الستور…الخ ، ۲/۳۵۷) 
عمامے کا کفن ! مگر کس کا…؟
	حضرت سیّدنا معاذ بن عبداللہ بن معمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے یہ واقعہ سنایا۔ اے امیر المؤمنین ! میں ایک صحرا میں جا رہا تھا کہ َدراِیں اَثنا گرد و غبار کے دو بگولے  مختلف سمتوں سے آتے دکھائی دئیے۔ یہ اچانک ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے اور باہم ایسے ٹکرائے جیسے لڑ رہے ہوں۔ تھوڑی دیر بعد وہ جدا ہوئے (اور اپنی اپنی راہ کو چل