Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
440 - 479
مزارات پر عمامے رکھنا
	عَارِف بِاللہ ، نَاصِحُ الْاُمَّہ حضرت علامہ مولانا امامعَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نَابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اگر چادریں چڑھانے اور عمامے و کپڑے وغیرہ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی نظر میں ان (مزارات والے اولیائے کرام) کی عزَّت وعظمت پیدا ہو، لوگ انہیں عام آدمی نہ جانیں ، یہاں خشوع و خضوع حاصل ہو اور غافل زائرین کے دِلوں میں ان کا اَدب واِحترام پیدا ہو، کیونکہ ان کے دل مزارات میں موجود اَولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام (کا مقام نہ جاننے کے سبب ان ) کی بارگاہ میں حاضری دینے اوران کا اَدب واِحترام کرنے سے خالی ہوتے ہیں ، اَولیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام کی مقدس اَرواح ان کے مزارات کے پاس جلوہ اَفروز ہوتی ہیں۔ لہٰذا چادریں چڑھانا اور عمامے وغیرہ رکھنا بالکل جائز ہے،اور اس سے منع نہیں کرناچاہئے(۱)،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سیدی اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّت فرماتے ہیں :’’اور جب چادر موجود ہو اور وہ ہُنُوز (ابھی) پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے۔بلکہ جودام اس میں صرف کریں ولی اللہ کی روح مبارک کو اِیصالِ ثواب کے لئے محتاج کو دیں۔ ہاں جہاں معمول ہو کہ چڑھائی ہوئی چادر جب حاجت سے زائد ہو، خدام، مساکین حاجت مند لے لیتے ہیں اور اس نیت سے ڈالے تو مضایقہ نہیں کہ یہ بھی تصدق ہو گیا۔‘‘ (احکامِ شریعت ، حصہ اول ، ص۸۹)