جانب سے گھماتے ہوئے میّت کے سر پر عمامہ شریف باندھ دیتے اور آخر میں سرکی طرف سے لاتے ہوئے اس کا دوسرا کنارہ میّت کی پیشانی پر لاتے اور جو کچھ بچ جاتا اُسے اس کے چہرے پر ڈال دیتے۔
(مصنف عبدالرزاق، باب الکفن، ۳/۲۶۶،حدیث:۶۲۰۹)
فتاویٰ ہِندیہ میں ہے: وَیُجْعَلُ ذَنَبُہَا عَلٰی وَجْہِہِ بِخِلَافِ حَالِ الْحَیَاۃِ کَذَا فی الْجَوْہَرَۃِ النَّیِّرَۃِ یعنی عمامہ شریف کے شملے کو بخلاف حالتِ زندگی کے میت کے چہرے پر رکھا جائے گا، ایسے ہی جوہرہ نیّرہ میں لکھا ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ، کتاب الصلاۃ ، الباب الحادی والعشرون،الفصل الثالث فی التکفین ۱/۱۶۰)
ہر قدم کے بارے میں سوال ہوگا
حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنھ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار ، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: انسان جو بھی قدم اٹھاتا ہے اس کے بارے میں سوال ہوگا کہ کس کام کے ارادے سے اٹھایا۔(فردوس الاخبار للدیلمی، باب المیم ، الحدیث : ۶۴۵۵،ج ۲، ص ۳۱۶)