Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
438 - 479
صدر الشر یعہ ،بد رالطر یقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فتا وی امجد یہ میں فر ما تے ہیں : ’’کفن میں عما مہ ہو نا علما ء و مشا ئخ کیلئے جا ئز ،عوام کیلئے مکروہ ہے ۔‘‘ (فتا وی امجدیہ ، ۱/۳۶۷) 
واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم 

میت کے عمامہ کا شملہ کہاں رکھا جائے؟
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جن حضرات کے لئے کفن میں عمامے کی شرعاً اجازت ذکر کی گئی ہے انہیں عمامہ یوں باندھنا چاہئے کہ عمامے کا شملہ چہرے پر رکھاجائے جیسا کہ حضرت سیّدنا نافع رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُسْدِلُ طَرَفَ الْعِمَامَۃِ عَلَی وَجْہِ الْمَیِّتیعنی حضرت سیّدناابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما عمامے کا شملہ میت کے چہرے پر رکھتے تھے اور پھر اسے میّت کی ٹھوڑی کے نیچے سے گھماتے ہوئے اس کے سر پر اچھی طرح لپیٹ دیتے، پھر اس کے دوسرے کنارے کو بھی میت کے چہرے پر ڈال دیتے۔ راوی فرماتے ہیں ہم نے امام عبد الرزاق عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْوَہّابْ سے پوچھا، یہ کیسے؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے حضرت سیّدنا مَعْمَر رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اس طرح کرتے دیکھاہے کہ وہ عمامے کا ایک کنارہ میّت کے چہرے پر رکھتے اور پھر اسے حلق کی