Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
437 - 479
 دیا، عمامہ ، قمیص ، تین چادریں۔ (السنن الکبریٰ للبیھقی ، کتاب الجنائز، باب جواز التکفین فی القمیص الخ، ۳/ ۵۶۵، حدیث:۶۶۸۹) 
	حضرت علا مہ احمد بن محمدالطحطاوی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ حاشیہ طحطاوی میں فرماتے ہیں :’ ’تُکْرَہُ العِمَامَۃُ لِاَنَّھَا لَمْ تَکُنْ فِیْ کَفَنِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّم وَعَلَّلَھَا فِی الْبَدَائِع لِاَنَّھَا لَوْ فُعِلَتْ لَصَارَالکَفَنُ شَفْعًا وَالسَّنَۃُ اَنْ یَّکُوْنَ وِتْرًا وَاسْتَحْسَنَھَا بَعْضُھُمْ وَھُمْ مُتَاَ خِّرُوْنَ وَخَصَّہ فِیْ الظَّہِیْرِیۃِ بِالْعُلَمَائِ وَالْاَشْرَافِ دُوْنَ الْاَوْسَاطِ یعنی (کفن میں )عمامہ ہونا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ رسول اللہصَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم کے کفن مبا رک میں نہ تھااور بدائع الصنائع میں اس کی یہ وجہ بیا ن کی گئی ہے کہ اگر کفن میں عما مہ ہو تو وہ جُفت ہو جائے گا اور سنّت طا ق ہونا ہے ۔اور بعض متا خرین ائمہ کرام نے اسے مُسْتَحْسَن قرار دیا ہے ظَہِیرِیہ میں ہے کہ یہ مُسْتَحْسَن ہو نا علما ء واشراف کیلئے ہے نہ کہ عوام کیلئے ۔‘‘ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ ،باب احکام الجنائز، ص ۵۷۷) 
 	طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے: ’’فَالسُّنَّۃُ ھِیَ الثَّلَاثُ وَمُخَالَفَتُھَا تَکْرَہُ تَنْزِیْہًا‘‘ یعنی مرد کے لئے کفن میں سنّت تین کپڑے ہیں اس کی مخالفت مکروہِ تنزیہی ہے ۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار،کتاب الصلٰوۃ،باب صلاۃ الجنازۃ، ۱/۳۶۹)