Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
436 - 479
مَیِّت کو عمامہ باندھنا 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میت کو عمامہ پہنانے کے متعلق حکمِ شرعی جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے قائم کردہ’’ دارالافتاء اہلسنّت ‘‘کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیے :چنانچہ 
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ میت کو عمامہ شریف پہنا کر دفن کرنے کا کیا حکم ہے ؟سائل : محمد ساجد عطاری
 بسم ا للّٰہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
	مرد کے کفنِ سنّت میں تین کپڑے ہیں ، لفافہ، ازار اور قمیص، عمامہ کفن سنّت میں شامل نہیں ، تاہم متاخرین علماء کرام نے علماء و مشائخ کو عمامہ کے ساتھ دفن کرنے کو جائز و  مُسْتَحْسَن فرمایا ہے، لیکن عام لوگوں کو عمامہ شریف پہنا کر دفنانا مکرو ہ تنزیہی ہی ہے۔
	سنن بیہقی میں ہے :’’عَنْ نَافِعٍ قَالَ :اِنَّ اِبْنًا لِعَبْدِ اللہِ بْنِِ عُمَرَ مَات فَکَفَّنَہُ اِبْنُ عُمَرَ فِی خَمْسَۃِ اَثْوَابٍ عِمَامَۃٍ وَقَمِیصٍ وَثَلَاثِ لَفَائِفَ‘‘ سید نانافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو آپ نے اسے پانچ کپڑوں میں کفن