Brailvi Books

دس عقیدے
99 - 193
 کہ اصل جگہ تو یہی ہے۔)
	علی الخصوص شمعِ شَبِسْتانِ وِلایت، بہارِ چَمَنِسْتَانِ معرفت،(1) امام الوَاصِلین، سیّد العارِفین (واصلانِ حق کے امام،(2) اہلِ معرفت کے پیش رَو) (3)خاتِمِ خلافت ِنُبُوَّت،(4)



________________________________
1 -    خصوصاً ولایت کے خلوت خانہ کی شمع ، معرفت ِالٰہی کے باغوں   کی بہار۔
2 -    اللّٰہ کے ولیوں   کے امام۔
3 -    اللّٰہ تعالیٰ کو جاننے پہچاننے والوں   کے سالار وقائد۔
4 -    خلافت ِنبوت کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے والے۔ یعنی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جانشینوں   حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر فاروقِ اعظم، حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے بعد حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلافت کے منصب کو سنبھال کر نبوتِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قائم مقامی کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جیسا کہ ’’ترمذی شریف‘‘ میں   ہے: حضرت سفینہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : میں   نے نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا :خلافت تیس سال تک ہے پھر سلطنت ہوجائے گی، حضرت سفینہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے تھے: حساب لگا لو حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت دو سال، حضرت عمر کی خلافت دس سال، حضرت عثمان کی بارہ سال، اور حضرت علی کی چھ سال۔(رِضْیَ اللّٰہ تَعَالٰیعَنہُم) (ترمذی، کتاب الفتن،باب ما جاء فی الخلافۃ، ۴/ ۹۷، حدیث: ۲۲۳۳)  ’’مراٰۃُ المناجیح‘‘ میں   ہے: یہ حساب تقریبی ہے جس میں   سال کی کسریں   یعنی مہینے چھوڑ دیے گئے ہیں   حساب تحقیقی یہ ہے کہ خلافتِ صدیقی دوسال چار ماہ، خلافتِ فاروقی دس سال چھ مہینے، خلافتِ عثمانی چند دن کم بارہ سال، خلافتِ حیدری چار سال نو ماہ، چاروں   خلفاء کی خلافت انتّیس سال سات مہینے نو دن ہے پانچ ماہ باقی رہے وہ حضرتِ امام حسن (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)کی خلافت نے پورے کر دیئے۔ (اشعۃ) ان مدتوں   کے بیان میں   کچھ اختلاف بھی ہے بہرحال حضرت امام حسن کی چند ماہ خلافت پر تیس سال پورے ہوگئے، چونکہ امام حسن کی خلافت دراصل خلافتِ حیدری کا تَتِمّہتھی (حضرت سیّدنا علی المرتضیٰرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کا بقیہ حصہ تھی) اس لیے اس کا ذکر علیحدہ نہ فرمایا،حضور خَاتَمُ الْاَنْبِیَاء ہیں   حضرت علی خَاتَمُ الْخُلَفَاء۔(مراٰۃ المناجیح، ۷/۲۰۴ ملتقطاً(