Brailvi Books

دس عقیدے
98 - 193
حضرت۱۰ ابو عُبَیْدَہ بن الجَرَّاح ۔(1)
دَہْ  یار بہِشْتِی اَند قَطْعِی 	   بُو بَکْر۱   وعُمَر،۲     عثمان۳    و علی۴
سَعْد۵ ستْ سعید۶  و بُو عُبَیْدَہ۷	طلحہ۸  ستْ وزُبَیْر۹ وعبدالرحمن۱۰
	اور ان میں   خلفائے اَربعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن اور اِن چار اَرکانِ قصر ِملَّت(ملّت اسلامیہ کے عالی شان محل کے چار سُتُونوں  ) وچار اَنہارِ باغِ شریعت (اور گلستانِ شریعت کی ان چار نہروں  )کے خصائص وفضائل، کچھ ایسے رنگ پر واقِع ہیں   کہ ان میں   سے جس کسی کی فضلیت پر تنہا نظر کیجئے یہی معلوم (و مُتَبادِرو مفہوم) ہوتا ہے کہ جو کچھ ہیں   یہی ہیں   ان سے بڑھ کر کون ہوگا      ؎
بہر گلے کہ ازیں   چار باغ می نگرم
بہار دامن دل می کشد کہ جا اینجاست
(ان چار باغوں   میں   سے جس پھول کو میں   دیکھتا ہوں   تو بہارمیرے دل کے دامن کو کھینچتی ہے



________________________________
= خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا آپ کی بیوی تھیں   جن کے ذریعے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایمان ملا، جنگ ِ یرموک اور فتحِ دمشق میں   بھی شریک رہے ،مقامِ عقیق میں   فوت ہوئے، مدینہ منورہ لا کر بقیع میں   دفن کیے گئے، حضرت مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے اِن کی نمازِ جنازہ پڑھائی، تاریخِ وفات میں   تین اَقوال ہیں  ۔ ۵۰، ۵۱، اور ۵۲ سن ہجری ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۸/۳۱  ،الاصابۃ،سعید بن زید، ۳/۸۷ -۸۸)
1 -    حضرت سیدناعامر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ:  اپنی کنیت ابو عبیدہ بن الجراح سے زیادہ مشہور تھے، مکہ و حبشہ دونوں   طرف ہجرت کی، غزوہ ٔبدر اور اس کے بعد تمام غزوات میں   شریک رہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّم نے اِن کو اس اُمت کا امین قرار دیا، شام میں   طاعون کی بیماری میں   ۱۸ سن ہجری میں   ان کا انتقال ہوا۔(الاصابۃ، عامر بن عبداللّٰہ، ۳/۴۷۵-۴۷۸)