Brailvi Books

دس عقیدے
97 - 193
 حضرت۷ عبدالرحمن بن عَوف،(1) حضرت۸ سَعْد بن اَبی وَقَّاص،(2) حضرت۹   سعید بن زَید،(3)



________________________________
=پہلے اللّٰہ کی راہ میں   آپ ہی نے تلوار سونتی، اُحد میں   حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ثابت قدم رہے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنے حبشہ اور مدینہ طیبہ دونوں   کی طرف ہجرت فرمائی، ۳۶ ہجری میں   ابنِ جرموز نے بصرہ کے قریب مقامِ سَفوان میں   آپ کو شہید کردیا۔ (مراٰۃ المناجیح، ۸/۲۸ ،اسد الغابۃ،الزبیر بن العوام، ۲/۲۹۵، ۲۹۸)

1 -    حضرت سیدناعبدالرحمن بن عوف  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ : آپ کی کنیت ابو محمداورآپ زہری قرشی ہیں  ،واقعہ فیل کے دسویں   سال آپ کی ولادت ہوئی،مہاجرین اوّلین میں   آپ کا شمار ہے، حبشہ و مدینہ دونوں   طرف ہجر ت کی، رَسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تمام غزوات میں   شریک رہے، ۳۱ یا ۳۲ ہجری میں   آپ کا انتقال ہوا، حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور جنت البقیع میں   آپ کو دفن کیا گیا۔(الاستیعاب ،عبدالرحمٰن بن عوف،  ۲/۳۸۶، ۳۹۰)
2 -    حضرت سیدناسعد بن ابی وقاص  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ: آپ کی کنیت ابو اسحاق ہے، آپ کے والدیعنی ابو وقاص کا نام مالک بن وُہیب اورقرشی ہیں  ، سترہ سال کی عمر میں   ایمان لائے، اسلام میں   سب سے پہلے اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں   تیر چَلَانے والے ہیں  ،عراق کی فتح میں   اہم کردار ادا کیا، حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کو کوفہ کا گورنر بنایا، مُسْتَجَابُ الدَّعْوَۃ مشہور تھے، حضور انورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ سے اور حضرت زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا تھا کہ تم پر میرے ماں   باپ فدا یعنی قربان ہوں  ، آپ کی وفات اپنی منزل عقیق میں   ہوئی جو مدینہ منورہ سے قریب ہے، مروان بن حَکَم نے آپ کا جنازہ پڑھایا کہ اس وقت وہی مدینہ کا حاکم تھا، بقیع شریف میں   دفن ہوئے، مشہور قول کے مطابق آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی وفات ۵۸ ہجری ہے۔      (مراٰۃ المناجیح، ۸/۳۰ ، الاصابۃ،سعد بن مالک، ۳/۶۲)
3 -    حضرت سیدناسعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ :  آپ کی کنیت ’’اَبُوالْاَعْوَر‘‘ ہے قرشی ہیں  ، غزوۂ اُحد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں   شریک رہے، غزوہ ٔبدر میں   مدینہ میں   نہ ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے، حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بہن حضرت فاطمہ بنت=