راشدین،(الف، ب،ج،د)
________________________________
(الف)… حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ : آپ کا نام عبداللّٰہ بن ابو قحافہ عثمان ہے،
آپ کا لقب ’’صدیق‘‘ بھی ہے عتیق بھی، حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: جسے آگِ دوزخ سے عتیق (یعنی آزاد) دیکھنا ہو وہ ابو بکر کو دیکھے، زمانہ جاہلیت میں آپ کانام عَبْدُالْکَعْبَہ تھا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عبداللّٰہ رکھا، آپ کو ’’صدیق‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم معراج پر گئے اور آکر لوگوں کو بتایا تو لوگوں نے جھٹلایا لیکن سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کی تصدیق کی، حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تمام غَزَوَات میں شریک ہوئے، آپ سب سے پہلے مؤمن ہیں ، قدرتِ خدا ہے کہ آپ کی کنیت ’’ابو بکْر‘‘ ہے، ’’ابو‘‘ کے معنی ’’والے،‘‘ ’’بکْر‘‘ کے معنی ’’اَوَّلِیَّت ‘‘، یعنی اولیت والے، آپ ایمان ، ہجرت، وغیرہ سب میں اوّل ہی رہے، غارِ ثور اور ہجرت میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صاحب ہیں ، آپ خود صحابی، والدین صحابی، ساری اولاد صحابی، پوتی پوتے، نواسی نواسے سب صحابی، آپ کی ولادت مکہ معظمہ میں واقعہ فیل کے دو سال چارماہ بعد ہوئی، مدینہ منورہ میں بائیس جمادی آخرہ ۱۳ ہجری منگل کی رات مغرب و عشاء کے درمیان آپ کی وفات ہوئی، تریسٹھ سال عمر ہوئی آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو غسل آپ کی بیوی حضرت اسماء بنتِ عمیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے دیا اور نماز جنازہ حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پڑھائی، آپ کی خلافت دو سال چار ماہ ہے، روضۂ رسول ہی میں مدفن ہیں ۔
(مراٰۃ المناجیح، ۸/۷ ،اسد الغابۃ،عبداللّٰہ بن عثمان ۳/۳۱۵)
(ب)… حضرت سیدناعمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ : آپ کا لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے،عمر کے معنی ہیں آباد کرنے والا، فاروق لقب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رکھا جیسا کہ آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللّٰہنے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری فرمادیا ہے، اور وہ فاروق ہیں ۔ اللّٰہنے ان کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا،آپ واحد ہیں جنہوں نے کھلے عام ہجرت کی، آپ نے بڑے بڑے غزوات میں شرکت کی، اور اسلام کو آباد کیا ، نبوت کے چھٹے یا پانچویں سال ایمان لائے، آپ کے ایمان لانے کے دنمکہ میں اسلام چمکا، آپ کی بہن حضرت فاطمہ بنت خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا آپ کے ایمان کا ذریعہ بنیں ، جب ایمان لائے تو حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام حاضر خدمت ہوکر بولے: یارسولَ اللّٰہ! آج حضرت عمر کے ایمان پر فرشتوں میں مبارک باد کی دھوم مچی ہے، آپ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے، سب سے پہلے آپ ہی کا لقب ’’امیر المومنین‘‘ ہوا، حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد آپ خلیفہ ہوئے، چھبیس ذی الحجہ ۲۳ ہجری بدھ کے بعد ایک یہودی غلام ’’ابو لولو‘‘ کے خنجر سے محراب النبی میں نماز فجر پڑھاتے ہوئے شہید کئے گئے، اورپہلوئے مصطفیٰ میں گنبد ِخضراء کے اندر دفن کئے گئے، ساڑھے دس سال خلافت کی، تریسٹھ سال عمر پائی، آپ کی شہادت سے اسلام گویا یتیم ہوگیا۔(مراٰۃ المناجیح، ۸/۴۴ ،اسد الغابۃ،عمر بن الخطاب، ۴/۱۵۶۔۱۶۴)
(ج) … حضرت سیدناعثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ: آپ کی کنیت ابوعبداللّٰہ ہے، اموی قرشی ہیں ، آپ شروع اسلام میں ہی حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تبلیغ سے انہی کے ہاتھ پر اسلام لائے، غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے کیونکہ آپ کی زوجہ اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بیٹی بیمار تھیں حضور ِانورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے ان کی خدمت میں تھے، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بدر کی غنیمت سے حصہ دیا، صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت الرضوان میں جسما ً شریک نہ ہوسکے کیونکہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو نمایندہ بنا کر بھیجا تھا، آپ کی شہادت کی خبر سن کر حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے بائیں ہاتھ کے متعلق فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے، اوراپنے دائیں ہاتھ کے متعلق فرمایا: یہ محمد مصطفیٰ کا ہاتھ ہے اور بیعت کی۔ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی دوبیٹیاں آپ کے نکاح میں آئیں اس لیے آپ کا لقب ’’ذوالنورین‘‘ یعنی دو نور والا ہے، بیاسی سال عمر پائی، بارہ برس خلافت کی، شہادت اٹھارہ ذی الحجہ جمعہ کے دن پینتیس ہجری میں ہوئی، جنت البقیع کے کنارہ پر دفن ہوئے۔(مراٰۃ المناجیح، ۸/۴۵ ،اسد الغابۃ،عثمان بن عفان، ۳/۶۰۶۔۶۱۶)
)د) … حضرت سیدناعلی ابن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ : آپ کی کنیت ’’ابوالحسن‘‘ بھی ہے،اور آپ ابوتراب بھی، قرشی ہاشمی ہیں ، حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا زاد بھائی اور داماد، بعض نے فرمایا کہ مَردوں میں سب سے پہلے آپ ایمان لائے، اس وقت آپ کی عمر دس بارہ سال تھی، ہجرت کی رات رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بستر پر بے خوف وخطر آرام فرمایا، سوائے تبوک کے سارے غزوات میں حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک ہوئے، غزوۂ تبوک میں حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے مدینہ منورہ اور اپنے گھر بار کا انتظام فرمانے کے لیے آپ کو مدینہ منورہ میں چھوڑا تھا، اٹھارہ ذی الحجہ جمعہ کے دن یعنی عین عثمان غنی کی شہادت کے دن ۳۵ ہجری کو خلیفہ ہوئے، عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے اٹھارہ رمضان المبارک جمعہ کے دن ۴۰ ہجری میں آپ کو شہید کیا، آپ کو حضرات حسنین کریمین اور عبداللّٰہ بن جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے غسل دیا، حضرت ا مام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز جنازہ پڑھائی، عمر تریسٹھ سال ہوئی، خلافت چار سال نو مہینہ چند دن ہوئی۔ (مراٰۃ المناجیح، ۸/۴۷ ، اسد الغابۃ،علی بن ابی طالب، ۴/۱۰۰۔۱۳۲)